سعودی عرب میں بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرز سے زکوٰة کی کٹوتی کا معاملہ

محکمہ زکوٰة کی جانب سے اس بارے میں وضاحت سامنے آ گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل نومبر 14:25

سعودی عرب میں بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرز سے زکوٰة کی کٹوتی کا معاملہ
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 نومبر 2019ء) سعودی عرب میں اس وقت ہر طرف ایک پریشانی کی فضا بنی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ خبر سامنے آنا ہے کہ مملکت میں تمام بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس سے زکوٰة منہا کی جائے گی۔ یہ خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے سے سامنے آئی ہیں جس پر صارفین کی جانب سے تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی پوسٹس میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال جنوری سے سعودی مملکت میں تمام انفرادی اور کاروباری اکاؤنٹس سے زکوٰة کی کٹوتی ہو گی ، جو کہ آٹو میٹک سسٹم کے ذریعے خود بخود کٹوتی کر لے گا۔

تاہم اس معاملے پر سعودی محکمہ زکوٰة و آمدنی کی جانب سے وضاحت سامنے آ گئی ہے۔سعودی نیوز ویب سائٹ سبق کے مطابق محکمے نے واضح کیا ہے کہ بینک کھاتہ داروں پر زکوٰة کٹوتی کی خبر بے بنیاد ہے۔

(جاری ہے)

محکمے کی جانب سے صرف کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس سے زکوٰة کی کٹوتی ہو گی، عام افراد کے اکاؤنٹس سے کسی قسم کی زکوٰة کٹوتی نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے عوام تشویش میں مبتلا نہ ہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کیا کریں۔

اگر کسی اطلاع کی تصدیق کرنی ہو تو محکمہ زکوٰة کی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کریں۔ محکمہ زکوٰة کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ جنوری 2020ء سے زکوٰة کٹوتی کی نئی پالیسی پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ جس کے تحت نجی کمپنیوں اور مقامی و غیر مُلکی سرمایہ کاروں کے بینک اکاؤنٹس سے زکوٰة کی کٹوتی ہو گی۔