پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی

خفیہ معلومات افشاں ہونے کے خدشا ت کی وجہ سے پنجاب حکومت نے سرکاری دستاویزات کی واٹس ایپ پر شیئرنگ پر پابندی لگا دی

Khurram Aniq خُرم انیق پیر فروری 14:44

پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ استعمال کرنے پر پابندی عائد ..
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-17فروری2020ء) پنجاب حکومت نے اپنے تمام سرکاری دفاتر میں سرکاری دستاویزات کی واٹس ایپ پر شیئرنگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ پابندی خفیہ معلومات افشان ہونے کے خدشات کی وجہ سے لگائی گئی ہے جس کے بعد ایسے تمام واٹس ایپ گروپس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے معلومات لیک ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کو اس معاملے میں کافی شکایات ملی تھیں جس میں کہا جا رہا تھا کہ پنجاب حکومت کی اکثر معلومات اس لئے لیک ہو جاتی ہیں کیونکہ یہاں کے سرکاری دفاترمیں معلومات کا تبادلہ سوشل میڈیا موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کے کسی بھی سرکاری دفتر کی دستاویزات کو واٹس ایپ کے ذریعے نہیں بھیجا جائے گا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ کچھ دن قبل وفاقی کابینہ نے بھی خفیہ معلومات لیک ہونے کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیئر حکومتی اور فوجی ارکان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے موبائل فون تبدیل کر لیں کیونکہ ممکن ہے کہ غیر ملکی جاسوس ایجنسیاں ہماری خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کے موبائل فون ہیک کر سکتی ہیں۔وفاقی کابینہ کے نوٹس کے بعد پنجاب حکومت نے ایسے ہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری دفتر کی دستاویزات واٹس ایپ کے ذریعے شیئر نہیں کی جائیں گی کیونکہ اس سے حساس معلومات لیک ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام نے تمام سرکاری اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کر دی ہے کہ کوئی بھی سرکاری معلومات کا تبادلہ واٹس ایپ سے نہ کیا جائے۔ محکمہ سروسز ایند جنرل ایڈمنسٹریشن نے نوٹس جاری کیا ہے جس کے بعد سکیشن افسران، لاء افسران اور ریاستی افسران کو بھی احکامات کے بارے میں بتاتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر فوری عمل شروع کر دیں۔