امریکہ میں کورونا وائرس کی شدت میں کمی نہ آ سکی

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 1400 سے زائد افراد ہلاک، مجموعی اموات کی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی

Kamran Haider Ashar کامران حیدر اشعر جمعرات جولائی 06:55

امریکہ میں کورونا وائرس کی شدت میں کمی نہ آ سکی
واشنگٹن (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 30 جولائی 2020ء) امریکہ میں کورونا وائرس کی شدت میں کمی نہ آ سکی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 1400 سے زائد افراد ہلاک، مجموعی اموات کی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں کمی نہیں آ سکی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 1440 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

کورونا سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے عالمی میٹر کے مطابق امریکہ میں گزشتہ روز 66 ہزار سے زائد افراد کورونا میں مبتلا ہوئے جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 45 لاکھ 60 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ 
امریکہ میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر متاثرہ افراد میں سے 22 لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد مہلک وائرس کو شکست دینے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں تاہم اس کے باوجود ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 21 لاکھ 60 ہزار سے زیاہ ہے۔

(جاری ہے)

امریکہ میں اس وقت 18 ہزار سے زیادہ کورونا کے مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں کورونا وائرس کی دو ممکنہ ویکسینز کی وسیع پیمانے پر حتمی آزمائش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے صحافیوں کو بتایا کہ آخری مرحلے کی آزمائش کے ابتدائی نتائج نومبر تک معلوم ہوجائیں گے۔

اگر آزمائش کامیاب رہی تو موڈرنا ہر سال ویکسین کی 50 کروڑ خوراکیں فراہم کرے گی جبکہ اسے امید ہے کہ وہ سالانہ ایک ارب خوراکیں بنانے کے قابل ہوجائے گی۔ دوسری تجرباتی ویکسین امریکی کمپنی فائزر نے تیار کی ہے جس میں اسے جرمنی کی بائیو این ٹیک کا تعاون حاصل ہے۔ یہ ویکسین امریکہ، برازیل، ارجنٹائن اور جرمنی میں 30 ہزار افراد کو دی جائے گی۔