مجلس حكماء المسلمين کا گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان

بین الاقوامی لاء کمیشن کا قیام عمل میں لا کر فرانسیسی میگزین کیخلاف قانونی جنگ لڑی جائے گی، پیر کے روز ہوئے مجلس کے اجلاس میں حضورﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی شدید مذمت

muhammad ali محمد علی منگل اکتوبر 01:52

مجلس حكماء المسلمين کا گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین ..
قاہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2020ء) مجلس حكماء المسلمين کا گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق مسلمان علماء اور ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم مجلس حكماء المسلمين نے منظم انداز میں حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرنے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے والے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کے روز جامعہ الازہر کے مفتی اعظم ڈاکٹر احمد کی زیر صدارت مجلس حكماء المسلمين کا ورچوئل اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران شرکاء کی جانب سے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں حضرت محمدﷺ کی شان میں منظم انداز میں کی جانے والی گستاخانہ حرکتوں کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذریعے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرنے اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے والے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

(جاری ہے)

اس مقصد کیلئے بین الاقوامی لاء کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو چارلی ہیبدو کیخلاف قانونی جنگ لڑے گا۔ اجلاس کے دوران شرکاء کی جانب سے کہا گیا کہ ایسی قابل مذمت اقدامات کا جواب قانونی طریقے سے دیا جانا ہی سب سے مناسب ردعمل ہے۔ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کے جذبات بھڑکانے والے اقدامات کے نتیجے میں کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں بلکہ پرامن رہیں اور مسلمانوں کیخلاف کی جانے والی سازش کو ناکام بنائیں۔

اجلاس کے دوران واضح کیا گیا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں پیرس میں مسلمان خواتین پر حملے، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور حضرت محمدﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کو رد کرتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی گروپ کے جذبات بھڑکانے، کسی مذہب یا مقدس ہستی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بلکہ آزادی اظہار رائے کو امن کے قیام اور دوسروں کے حقوق یقینی بنانے کیلئے استعمال کیا جانا چاہیئے۔

متعلقہ عنوان :