دنیا کے آم پیدا کرنے والے 90 ممالک میں پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا چھٹا نمبر
ہفتہ 21 دسمبر 2024 21:41
(جاری ہے)
آم کی پیداوار میں کورا کمی کا سبب بنتا ہے۔
آم کے مرکزی پیداواری علاقوں میں کورا عام طور پر دسمبر کے شروع سے وسط فروری تک پڑتا ہے تاہم کورا پڑنے کا زیادہ امکان وسط دسمبر سے آخر جنوری تک ہوتا ہے۔ جب سردیوں میں رات کے درجہ حرارت میں بتدریج کمی کے ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا ہے اور عام طور پر آم کے پیداواری علاقوں میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر یہ تناسب 100 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح درجہ حرارت مزید کم ہونے پر ہوا میں موجود یہ نمی زمین اور پودوں کے پتوں پر جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے اس نمی کو شبنم کہتے ہیں۔ درجہ حرارت میں مزید کمی پر شبنم اپنی جگہ پر جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ برف کی اس بار یک تہہ کو کورا کہتے ہیں۔ کورا اس وقت پڑتا ہے جب رات کے وقت فضا کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے اور جب دن کے وقت سورج کی حرارت زمین تک پہنچتی ہے اور اسے گرماتی ہے جب رات ہوتی ہے تو زمین یہ حرارت خارج کرتی ہے اور ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اس کا درجہ حرارت کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درجہ حرارت جب 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہوتا ہے تو کورا پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں جب دن کے وقت ٹھنڈی ہوا شمال کی سمت سے چلے۔ ہوا شام کے وقت ساکت ہوتی ہے رات کو مطلع صاف ہوا اور با دل بالکل نہ ہوں ساگر پودوں کو کورا سے محفوظ رکھنے کیلئے مناسب حکمت عملی نہ اپنائی جائے تو آم کے چھوٹے پودوں اور ز سری کو زیادہ نقصان پہنچے کا احتمال ہوتا ہے۔ پودوں کو کورے کے اثر سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر نہایت ضروری ہیں۔ آم کی فصل کو کورے کے نقصانات سے بچانے کیلئے باغبان پانی کا چھڑکاؤ کریں جو زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اگر زمین میں وتر موجود ہو تو آبپاشی کی ضرورت نہیں ہے۔ آم کے چھوٹے پودوں کو شیشم کے چھاپوں یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر بھی کورے کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، آم کے درختوں کے نیچے دھواں کرنے سے کورے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔باغات میں درختوں کی چھتری کے نیچے 80 سے 100 کلو گرام نامیاتی مواد، مثلاً گلا سڑاگوبر بکھیریں۔آم کے درختوں پر قبل از وقت یعنی موسم سرما میں نکلنے والے بور کو روکنے کیلئے آبپاشی کا روکنا ضروری ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ اگر پھل توڑنے کے فوراً بعد فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد کا استعمال نہیں کیا گیا تو ماہ دسمبرمیں گلی سڑی گوبر کے ساتھ ملا کر استعمال کر لیں۔پودوں کو ٹھنڈی ہواؤں سے بچانے کے لیے چاروں اطراف حفاظتی شیلڈ لگانا ضروری ہے تاکہ درختوں کی جڑیں محفوظ رہیں۔ کورے کے نقصان سے بچنے کیلئے درختوں کے تنوں پر بورڈیکس پیسٹ،چونا: نیلا تھوتھا: پانی 1:1:10 یا محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب جراثیم کش زہر کا پیسٹ1:20 کے تناسب سے لگائیں۔باغبان آم کے تیلے کے تدارک کیلئے درختوں کے موٹے ٹہنوں پر مناسب کیڑے مارزہر کا سپرے کریں تاکہ درختوں کی چھال میں چھپے آم کے تیلے کا خاتمہ ہو سکے۔اس کے علاوہ آم کی گدھیڑی کو پودوں پر چڑھنے سے روکنے کیلئے تنوں پر پھسلن والے پھندی(پلاسٹک شیٹ) لگانے کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیںمزید زراعت کی خبریں
-
پاکستان میں آم کازیر کاشت رقبہ1لاکھ75ہزار308 ایکڑجبکہ پنجاب میں 1لاکھ14ہزار432 ایکڑہے، ترجمان مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کاوشیں رنگ لے آئیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا
-
محکمہ زراعت پنجاب کی آم کے تیلے کے انسداد بارے سفارشات جاری
-
گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر، کین کمشنر کے ادائیگیوں کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی گئی
-
پشاور، احساس فیول سپورٹ پروگرام میں 14 لاکھ کسان رجسٹرڈ
-
نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے،زرعی ماہرین
-
پنجاب میں20 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم، مزید 10 ہزار کی فراہمی شروع
-
پنجاب کے میدانی علاقوں میں ادرک کی کاشت مارچ میں مکمل کرنے کی ہدایت
-
زرعی شعبے میں خواتین کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر نے عالمی یومِ خواتین پر“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”مہم کا آغاز کر دیا
-
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھمبی کی پیداوار 15لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی
-
آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری، 5 لاکھ ٹن سے زائد ایکسپورٹ کے آرڈرز مل گئے
-
موسمی دباؤ میں اضافہ، آم کی صنعت خطرے میں،ماہرین کا مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.