گندم کی نازک اوقات پر آبپاشی اور کھادوں کا استعمال ضروری ہے
جب فصل کو پانی کی اشد ضرورت ہو تی ہے اور ان اوقات میں پانی کی کمی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے
پیر 22 دسمبر 2025 13:22
(جاری ہے)
گندم کی فصل کاشت سے لے کر کٹائی تک 160 دنوں میں پک کر تیار ہوتی ہے اس دوران فصل کی بڑھوتری میں چند ایک نازک مراحل آتے ہیں جن میں بروقت آبپاشی بھرپور پیداوار کے لیے اشد ضروری ہے۔
گندم کی فصل کو سب سے پہلے پانی کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب پودا جھاڑ بنا رہا ہوتا ہے۔ فصل کی یہ حالت بروقت کاشت کی گئی فصل میں کاشت سے 18 سے 25 دن بعد تک ہوتی ہے اگر اس مرحلہ پر پانی نہ دیا جائے تو مستقل جڑوں کی نشوونما ٹھیک نہیں ہوگی جس کی وجہ سے شگوفے کم بنیں گے اور سٹوں کی تعداد کم رہ جائے گی جس سے پیداوار بھی کم ہوگی۔ اگر بجائی کے وقت وتر خشک ہو تو پہلی آبپاشی پہلے بھی کی جاسکتی ہے۔ گندم کی فصل میں آبپاشی کے لحاظ سے دوسرا نازک مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب فصل گوبھ یا سٹے نکالنے کے قریب ہو۔ یہ نازک دور کاشت کے 80 سے 90 دن بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر اس مرحلہ پر پانی کی کمی آجائے تو زر پاشی کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے سٹوں میں دانے کم بنتے ہیں۔ گوبھ کی حالت میں کی گئی آبپاشی پھول بنانے، ان کا سردی سے تحفظ اور زیادہ سے زیادہ دانے بنانے میں مدد دیتی ہے اس لیے گوبھ کی حالت میں فصل کو پانی ضرور لگانا چاہئے۔ تیسری آبپاشی عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب دانہ مکمل بن جائے یا دودھیا حالت میں ہو۔ اس مرحلہ پر پانی کی کمی اور گرمی کی وجہ سے دانہ پچک کر کمزور اور پتلا رہ جاتا ہے۔ گندم کی فصل میں یہ مرحلہ کاشت کے 125 سے 130 دن تک آتا ہے۔چوتھی یا آخری آبپاشی کی عموماً اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب موسم اچانک گرم ہو جائے۔ یہ حالت عام طور پر اپریل کے پہلے ہفتے اور پچھیتی کاشتہ فصل میں اپریل کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں آتی ہے اس وقت دانہ تقریباً گوندنما حالت میں ہوتا ہے اس مرحلہ پر پانی کی کمی اور گرمی کی وجہ سے دانہ پچک کر کمزور اور پتلا رہ جاتا ہے جس سے پیداوار میں کمی واقع ہوجا تی ہے۔ یہ پانی ہلکا اور موسم کو مدنظر رکھ کر لگانا چاہیے۔ گندم کی فصل میں نائٹروجنی کھادوں کو تین اقساط میں بجائی کے وقت، پہلے پانی اور دوسرے پانی پر استعمال کریں۔ نائٹروجنی کھاد گندم کا سٹہ نکلنے سے پہلے مکمل کرلینی ضروری ہے کیونکہ نائٹرجنی کھاد کا دیر سے استعمال فصل پر کالا تیلا کے حملہ کا باعث بنتا ہے۔ کمزور رقبوں یا گندم کی فصل کمزور ہونے کی صورت میں نائٹروجنی کھاد کا 1/3 حصہ دوسری آبپاشی کے ساتھ استعمال کریں۔ کاشتکار کاشتہ گندم کی کاشت گوبھ کی حالت میں، بوران، زنک اور کاپر کا فصل پر سپرے کریں تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔مزید زراعت کی خبریں
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کاوشیں رنگ لے آئیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا
-
محکمہ زراعت پنجاب کی آم کے تیلے کے انسداد بارے سفارشات جاری
-
گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر، کین کمشنر کے ادائیگیوں کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی گئی
-
پشاور، احساس فیول سپورٹ پروگرام میں 14 لاکھ کسان رجسٹرڈ
-
نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے،زرعی ماہرین
-
پنجاب میں20 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم، مزید 10 ہزار کی فراہمی شروع
-
پنجاب کے میدانی علاقوں میں ادرک کی کاشت مارچ میں مکمل کرنے کی ہدایت
-
زرعی شعبے میں خواتین کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر نے عالمی یومِ خواتین پر“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”مہم کا آغاز کر دیا
-
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھمبی کی پیداوار 15لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی
-
آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری، 5 لاکھ ٹن سے زائد ایکسپورٹ کے آرڈرز مل گئے
-
موسمی دباؤ میں اضافہ، آم کی صنعت خطرے میں،ماہرین کا مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور
-
آم کے بور کی مکھی پھل کو بری طرح متاثر کرتی ہے، محکمہ زراعت سمبڑیال
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.