کاشت کار موسم گرما کی سبزیوں بالخصوص کریلا کی کاشت کرکے معاشی استحکام کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں،ڈائریکٹر زراعت

بدھ 18 فروری 2026 17:51

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 فروری2026ء) ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کہا ہے کہ کاشت کار موسم گرما کی سبزیوں بالخصوص کریلہ کی کاشت کرکے معاشی استحکام کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ ایسی سبزیوں کی قیمت دیگر فصلات کی نسبت زیادہ ملتی ہے۔انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ کریلا اپنی طبعی خصوصیات کی بنا پر بہت افادیت کا حامل ہے جبکہ کریلا موسم گرما کی ایک اہم اور مقبول ترین سبزی بھی ہے جس کا استعمال مختلف بیماریوں مثلاً نظام انہظام کی خرابی، ملیریا، چکن پاکس اور ذیابیطس جیسی مہلک امراض کے خلاف جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

انہوں نے پنجاب کے وسطی و جنوبی اضلاع فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ملتان، وہاڑی اور شمالی اضلاع شیخوپورہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، اوکاڑہ، حافظ آباد کو سبز کریلے کی کاشت اور بیج پیداکرنے کیلئے موزوں قرار د یتے ہوئے کہاکہ کاشتکار کریلے کی اقسام فیصل آباد لانگ،گوجرہ سلیکشن اورکریلی کے ساتھ دوغلی اقسام بلیک ڈیمنڈ، پالی اوراین ایس 241 کی اگیتی کاشت فروری کے آخری ہفتہ میں شروع کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ کریلے کی کاشت کے لیے معتدل آب و ہوا موزوں ہے اوراسکے بیج کے اگاؤ کیلئے 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کریلے کی کاشت کیلئے زرخیز میرا زمین جس کی تیزابی خا صیت 7یا اس سے کم ہو اور جس میں پانی کا نکاس اچھا ہوبہترین ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار بیج کو کاشت سے پہلے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ پھپھوندکش دوائی بحساب 2سے 3گرام فی کلوگرام بیج کو لگائیں اوراچھی روئیدگی والا 2 سے اڑھائی کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔

انہوں نے کہاکہ کریلے کی فصل کو این پی کے کھادیں بالترتیب 40:40:25 کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے درکار ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے بوائی کے وقت 4بوری سنگل سپر فاسفیٹ، ایک بوری امونیم نائٹریٹ اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالناضروری ہے۔