موسمی حالات کے پیش نظر گندم ودیگر فصلوں بارے کاشتکاروں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جائے، افتخار علی سہو

اتوار 1 مارچ 2026 16:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 مارچ2026ء) سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں فیلڈ میں جاری عملی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران گندم سمیت دیگر اہم فصلوں کی موجودہ صورتِ حال پر غور اور متعلقہ افسران سے بریفنگ لی گئی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت ٹاسک فورس پنجاب محمد شبیر احمد خان،ڈائریکٹر جنرلز زراعت چوہدری عبدالحمید، نوید عصمت کاہلوں اور ڈاکٹر عبدالقیوم سمیت دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ تمام ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز زراعت (توسیع) بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کو بتایا گیاکہ صوبہ بھر میں گندم کی فصل کی حالت بہت اچھی اور پیداواری ہدف کے حصول کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

سیکرٹری زراعت پنجاب نے ہدایت کی کہ موجودہ موسمی حالات کے پیشِ نظر گندم اور دیگر فصلوں کے بارے میں کاشتکاروں کو بروقت اور موثر فنی رہنمائی فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کی سفارشات کے مطابق اس نازک مرحلے پر گندم کی آبپاشی کے حوالے سے جامع رہنمائی جاری جبکہ نہری پانی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے محکمہ انہار سے مسلسل رابطہ رکھا جائے۔اسی سرح گندم کی نگہداشت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کا تعاون بھی حاصل کیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سیزن کے دوران 7 لاکھ ایکڑ رقبہ پر اگیتی کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے ہدایت کی کہ ملتان، ساہیوال، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز میں اگیتی کپاس کی کاشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تھل کے علاقے میں چنے کی فصل کی حالت نہایت تسلی بخش ہے، جو کاشتکاروں کی محنت اور محکمہ زراعت کی بروقت رہنمائی کا ثمر ہے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری زراعت پنجاب نے واضح کیا کہ گرین ٹریکٹرز پروگرام فیز III کے تحت کامیاب کاشتکاروں کو اپنے حصے کی رقم جمع کرانے کے لیے 6 مارچ 2026 تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

مزید برآں، وزیر اعلی پنجاب کے ''اپنا کھیت اپنا روزگار'' پروگرام کے تحت محکمہ زراعت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے تاکہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم اور زرعی پیداوار میں پائیدار اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔