فیلڈ افسران درجہ حرارت میں حالیہ اضافے کے گندم کی فصل پرمنفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کسانوں کی مناسب رہنمائی کریں ،کمشنر ساہیوال ڈویژن

جمعرات 5 مارچ 2026 22:48

کمشنر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مارچ2026ء) کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل نے محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران پر زور دیا ہے درجہ حرارت میں حالیہ اضافے کے گندم کی فصل پرمنفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کسانوں کی مناسب رہنمائی کریں اور ان سے قریبی رابطہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کسانوں کو درپیش مسائل سے مکمل آگاہ ہے اور ان مسائل کو وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نوٹس میں لایا جائے گا۔

انہوں نے محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ کسانوں کو فصلوں کی بیلنس کاشتکاری کی ترغیب دیں تاکہ انہیں مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ کسانوں کو بھی چاہیے کہ وہ محکمہ زراعت کے مشورے کے مطابق فصلوں کی کاشت کریں تاکہ ضرورت سے زائد پیداوار کی صورت میں مالی نقصان سے بچ سکیں۔

(جاری ہے)

وہ یہاں اپنے دفتر میں کپاس کی اگیتی کاشت اور گندم کی فصل کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں محکمہ زراعت، اریگیشن اور ریونیو اور کسان تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں کسانوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور درپیش مسائل بارے نشاندہی کی جس پر کمشنر نے ترجیح بنیادوں پر انہیں حل کرنے کے یقین دہانی کرائی۔ ڈائریکٹر زراعت چوہدری شہباز اختر نے بتایا کہ ساہیوال ڈویژن میں حکومت کی جانب سے مقررہ ہدف کے 96 فیصد رقبے پر گندم کاشت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا موجودہ فصل کے لیے حکومت پنجاب نے 8 لاکھ 36 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کا ہدف مقرر کیا تھا جس میں سے 8 لاکھ 21 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع ساہیوال میں 2 لاکھ 97 ہزار ایکڑ ہدف کے مقابلے میں 2 لاکھ 88 ہزار ایکڑ، ضلع اوکاڑہ میں 3 لاکھ 20 ہزار ایکڑ ہدف میں سے 3 لاکھ 9 ہزار اور ضلع پاک پتن میں 2 لاکھ 19 ایکڑ میں سے 2 لاکھ 5 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈویژن بھر میں گندم کی فصل مثالی ہے اور تمام عرصے میں نہری پانی اور کھادوں کی دستیابی ممکن رہی۔