زراعت و لائیو سٹاک ویلیو ایڈیشن اینڈ ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے صوبائی وزیر لائیو سٹاک کی زیر صدارت اجلاس

جمعرات 9 اپریل 2026 22:18

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اپریل2026ء) زراعت اور لائیو سٹاک ویلیو ایڈیشن اینڈ ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں صوبائی وزیر لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری لائیو سٹاک احمد عزیز تارڑ، سیکرٹری زراعت افتخار علی ساہی اور سرکاری و نجی شعبوں کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران زرعی و لائیو سٹاک شعبوں کی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے متعدد امور پر تفصیلی غور کیا گیا جن میں مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن، گندم کی خریداری کے نظام کو موثر بنانا، جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کا فروغ، اور فارم میکانائزیشن کے لیے مالی معاونت کے مواقع شامل تھے۔

(جاری ہے)

لائیو سٹاک کے شعبے میں مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے اور ضیاع کم کرنے کے لیے کولڈ چین سسٹم کی ترقی پر زور دیا گیا جبکہ بیماریوں کے کنٹرول اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایف ایم ڈی فری کمپارٹمنٹس کے قیام کو ترجیح دی گئی اور بتایا گیا کہ پنجاب میں 8 ایف ایم ڈی ڈیزیز کنٹرول کمپارٹمنٹس نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں جو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے ویژن کے تحت کسانوں اور مویشی پال حضرات کے لیے اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ لائیو سٹاک ہرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرامز کے ذریعے جانوروں کی نسلی بہتری پر کام کر رہا ہے جس کے تحت سالانہ 20 لاکھ اعلی نسل کے برہمن اور فریزین بیلوں کا سیکسڈ سیمن رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جا رہا ہے اور مقامی نسل میں بھی جینیاتی بہتری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فارم میکانائزیشن کے تحت جلد چلنگ یونٹس متعارف کروائے جائیں گے جس سے دودھ اور گوشت کی ویلیو ایڈیشن اور محفوظ ذخیرہ کاری میں آسانی ہوگی جبکہ بائیو گیس پلانٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے اور یہ کہ محکمہ لائیو سٹاک کا بجٹ 30ارب جبکہ محکمہ زراعت کا بجٹ 100 ارب کے قریب پہنچ چکا ہے جسے مزید بڑھایا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے شعبہ زراعت و لائیو سٹاک کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کسانوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ٹیکسز میں کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کر کے پیداواری صلاحیت، پائیدار ترقی اور ملکی معیشت کے استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔