سرسوں کا تیل فنگل انفیکشن کو روکتا ہے،خون کی گردش کو فروغ دیتا ہے، ڈاکٹرمحمد افضل

منگل 14 اپریل 2026 12:56

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اپریل2026ء) ڈپٹی ڈائریكٹر محكمہ لائیوسٹاك سمبڑیال ڈاکٹرمحمد افضل نے کہا ہے کہ سرسوں کا تیل خاص کر موسم گرما میں جانوروں کو دینے سے اندرونی گرمی ختم ہوتی ہے، سرسوں کا تیل فنگل انفیکشن کو روکتا ہے،خون کی گردش کو فروغ دیتا ہے،بھوک بڑھانے اور خوراک ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے، ٹانگوں کے درد کو دور کرتا ہے اورجلد کے بیکٹیریل انفیکشن کا علاج کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

مویشی پال حضرات کے نام پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی جانور کو تیل روزانہ دینا ہو تو فی جانور 100ایم ایل چوکر میں ملا کر چارے پر ڈال دیں،اس سے دودھ اور فیٹ بڑھتی ہے،خارش اور الرجی سے جانور محفوظ رہتا ہے اور اپھارہ بھی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں اپریل میں گھی اور میٹھا تیل جانوروں کیلئے مناسب نہیں ہوتا کیونکہ یہ گرم تاثیر رکھتے ہیں اور سروسوں کا تیل دینے سے جانور گرمی محسوس نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نال سے تیل دینے سے پھیپھڑوں میں میں جانے کا خطرہ ہوتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے لہٰذا تیل کو چوکھر یا ونڈے میں ملا کر کھلائیں۔انہوں نےکہا کہ تیل کیونکہ قدرتی خوراک ہے اس میں کیمیکلز کی ملاوٹ نہیں ہوتی اس وجہ سے یہ جانور کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ فائدہ مند ہوتا ہے ،تیل جانور کی اندرونی خشکی دور کرتا ہے ،تیل موسمی شدت سے تحفظ کا ذریعہ بنتا ہے،ہر کسان کو چاہیے کہ دیسی جانوروں کو موسم گرما میں تیل دیں،اس سے نہ صرف جانور کی قوت مدافعت بڑھے گی بلکہ جانور موسمی شدت کا مقابلہ بھی کرے گا اور یاد رہے کہ کولہو سے خریدا ہوا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :