خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبپاشی کا اجلاس

بدھ 15 اپریل 2026 20:42

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اپریل2026ء) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبپاشی کا اجلاس بدھ کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی زرشاد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں اراکینِ کمیٹی محمد ریاض، افتخار اللہ، جان شرافت علی اور محترمہ عارفہ بی بی کے علاوہ سیکرٹری آبپاشی، محکمہ قانون کے حکام، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں گزشتہ ہدایات کی روشنی میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران مختلف اہم امور زیر غور آئے، جن میں رکن صوبائی اسمبلی زرعالم خان کی جانب سے ناکارہ ٹرانسفارمر کی تبدیلی اور خیشگی لفٹ ایریگیشن اسکیم کی سولرائزیشن کا معاملہ شامل تھا۔

(جاری ہے)

محکمہ آبپاشی کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ ٹرانسفارمر 1952 میں نصب کیا گیا تھا اور مکمل طور پر بجلی پر چلتا ہے، جسے شمسی توانائی پر منتقل کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں کیونکہ شمسی توانائی محدود اوقات میں دستیاب ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق متبادل کے طور پر ایک اضافی ٹرانسفارمر بطور اسٹینڈ بائی بھی موجود ہے۔مزید برآں، تحصیل تخت نصرتی کے گاؤں مصطفیٰ کرونہ نغزی بانڈہ میں ٹیوب ویل منصوبہ کنٹریکٹر کو واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث تاحال سولر نظام پر منتقل نہیں ہو سکا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کنٹریکٹر کو منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اسی طرح بائیزئی آبپاشی اسکیم سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 2017 میں مکمل ہوا، جس کے تحت 184 آؤٹ لیٹس قائم کیے گئے جبکہ مردان اور ملاکنڈ کے اضلاع میں واٹر کورسز تعمیر کیے گئے۔

اس اسکیم کے ذریعے 200 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے تقریباً 25 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہو رہی ہے۔اجلاس میں چترال میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں پر بھی غور کیا گیا، جہاں لوئر چترال میں تقریباً 600 گھروں کو تاحال خطرات لاحق ہیں۔ کمیٹی اراکین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین زرشاد خان نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ ڈپوٹیشن پر تعینات ملازمین کی مکمل تفصیلات اور محکمہ کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔