رضامندی سے جاری عدالتی حکم کو بعد میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، ایسا اقدام توہینِ عدالت کے مترادف ہے، وفاقی آئینی عدالت

ہفتہ 23 مئی 2026 19:25

رضامندی سے جاری عدالتی حکم کو بعد میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، ایسا اقدام ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ فریقین کی رضامندی سے جاری ہونے والے عدالتی احکامات بعد میں چیلنج نہیں کیے جا سکتے اور ایسے احکامات سے انحراف توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے سندھ کی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق کیس میں غلام حسین خواجہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے تحت ریٹائرڈ جج جسٹس (ر) ندیم اظہر صدیقی کو ایڈمنسٹریٹر و الیکشن آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔

دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے نے فیصلہ سنایا۔ تحریری فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے قلمبند کیا۔

(جاری ہے)

فیصلے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز سندھ کی جانب سے جاری حکم، شوکاز نوٹس اور انکوائری وارنٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سوسائٹی میں تین ماہ کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے رجسٹرار کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے ازخود اختیارات استعمال کئے، حالانکہ ایسا کوئی ریلیف درخواست میں نہیں مانگا گیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے مناسب احکامات جاری کرنے کی مجاز ہیں۔

عدالت نے وطن پارٹی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کسی بھی مناسب شخص یا اتھارٹی کو ہدایات دے سکتی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ سے باہر کسی شخص کو ایڈمنسٹریٹر یا الیکشن آفیسر مقرر کرنا غیر معمولی اقدام نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی اسی سوسائٹی کے تنازع میں ہائیکورٹ نے اپنے ناظر کو الیکشن آفیسر مقرر کیا تھا۔فیصلے میں عدالت نے کہا کہ رضامندی کے عدالتی فیصلے فریقین پر لازم ہوتے ہیں اور انہیں بعد میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزار کے طرزِ عمل کو تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے ریٹائرڈ جج کی تقرری مناسب اقدام تھا۔عدالت نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔