جیکب آباد میں لڑکی سے ایک سال تک مبینہ گینگ ریپ کا انکشاف

متاثرہ لڑکی کا والدین کے ہمراہ ایس ایس پی ہاؤس کے باہر احتجاج، نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا الزام

جمعہ 5 جون 2026 18:45

جیکب آباد میں لڑکی سے ایک سال تک مبینہ گینگ ریپ کا انکشاف
جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جون2026ء) جیکب آباد میں لڑکی سے ایک سال تک مبینہ گینگ ریپ کا انکشاف، متاثرہ لڑکی کا والدین کے ہمراہ ایس ایس پی ہاؤس کے باہر احتجاج، نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا الزام، متاثرہ لڑکی کا انصاف اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے بولان محلہ کی رہائشی لڑکی تسلیم کوہیری نے اپنے والدین کے ہمراہ ایس ایس پی ہاؤس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے متعدد افراد اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے اور اسے نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا رہا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی تسلیم کوہیری نے بتایا کہ اس کا موبائل فون خراب ہونے پر وہ موبائل مارکیٹ گئی تھی جہاں سے موبائل فون بنانے والے نے اس کا موبائل نمبر حاصل کرلیا اور مسلسل رابطہ کرتا رہا، اس کے مطابق بعد ازاں فراز نامی ایک نوجوان اسے اپنے ساتھ لے گیا اور سومرا گوٹھ سے آگے ایک مقام پر پہنچایا جہاں 8 سے 10 افراد نے اسلحے کے زور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور اس کی نازیبا ویڈیوز ریکارڈ کیں جس کے بعد وہ مسلسل مجھے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ، لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزمان نے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو واقعے کے بارے میں بتایا تو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی، متاثرہ لڑکی کے مطابق ملزمان نے اس کے منگیتر کو بھی ویڈیوز بھیج دیں جس کے باعث اس کی منگنی ٹوٹ گئی اور اس کی زندگی شدید متاثر ہوئی، متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین نے ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی سے ملاقات کی اور تمام واقعے سے آگاہ کیا، ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) فیضان علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی ہے اور اس کا بیان لے لیا ہے، متاثرہ لڑکی کے بیان میں شکوک و شبہات موجود ہیں تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے، ایس ایس پی نے کہا کہ اگر زیادتی کی تصدیق ہوئی تو ملزمان کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی اور جو بھی اس میں ملوث ہوگا اسے گرفتار کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ زیادتی کا الزام انتہائی سنگین ہے اس لیے ہم ہر پہلو سے کیس کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ کوئی بے قصور شخص کو ناحق مقدمے میں شامل نہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکنیکل بنیاد پر کیس کی تحقیقات کریں گے اس کیس میں ایف آئی اے اور سائبر کرائم کی بھی مدد لی جائے گی۔