عالمی امن و سلامتی کو نفرت کے بیانیے سے خطرہ، یو این چیف

یو این جمعہ 12 جون 2026 22:30

عالمی امن و سلامتی کو نفرت کے بیانیے سے خطرہ، یو این چیف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 جون 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ اظہار نفرت عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔ نفرت انگیز بیانیے نسل کشی اور دیگر ہولناک جرائم کی بنیاد بنتے ہیں اور جنہیں روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں 'مسقط لائحہ عمل' کے اجرا پر کہی جس کا مقصد فروغ امن اور معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے روایتی اور قدیمی مقامی برادریوں کے رہنماؤں کا کردار اجاگر کرنا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز اظہار معاشروں کو تقسیم کرتا ہے، پورے کے پورے سماجی گروہوں کو غیر انسانی بنا کر پیش کرتا ہے اور اس کے باعث خونریزی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ نفرت دانستہ پھیلائی جاتی ہے اور تقریباً ہر نسل کشی اور بڑے انسانی المیوں کے منصوبے میں اس کا بنیادی کردار ہوتا۔

روایتی رہنماؤں کا اہم کردار

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس خطرناک اور شرمناک سلسلے کا توڑ کرنے کے لیے تعلیم، متاثرہ افراد کی مدد، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے موثر اقدامات اور روایتی و مقامی رہنماؤں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔ یہ رہنما مقامی حالات اور معاشرتی حقائق سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور اپنی برادریوں کے اعتماد اور احترام کے حامل ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے وہ تنازعات کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ ان کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدوں اور فیصلوں پر عملدرآمد کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

نفرت کا تیزرفتار پھیلاؤ

انتونیو گوتیرش نے نشاندہی کی کہ نفرت انگیز مواد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بے ضابطہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ نسل کشی اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے لیکن مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پورے معاشرے کو اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مسقط لائحہ عمل

یہ منصوبہ سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے 'دفتر برائے انسداد نسل کشی و ذمہ داری برائے تحفظ' اور ‎'مذہبی و روایتی امن کاروں کے نیٹ ورک' کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اس پروگرام کی میزبانی 'تہذیبوں کے اتحاد' نے کی جو بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے ذریعے پرامن، جامع اور منصفانہ معاشروں کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ لائحہ عمل یاد دلاتا ہے کہ نفرت انگیز اظہار نہ صرف آئندہ تشدد کی پیشگی علامت ہوتا ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کو بھی تیز کر دیتا ہے۔

انہوں نے چار شعبوں کی نشاندہی کی جن میں رکن ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:

1۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا احتساب

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ صارفین کی حفاظت آن لائن خدمات فراہم کرنے والے ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ڈیزائن کا بنیادی حصہ ہو۔ آئندہ ماہ مصنوعی ذہانت کے انتظام پر منعقد ہونے والے پہلے عالمی مکالمے میں بھی ان معاملات پر غور کیا جائے گا۔

2۔ مقامی سطح پر روک تھام اور ثالثی

اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کی نگرانی، اطلاع کاری، نفرت انگیز اظہار کا پرامن طریقوں سے مقابلے، رہنمائی اور تربیت کے پروگرام شروع کیے جانا چاہئیں۔ علاوہ ازیں، ایسی تعلیم کو بھی فروغ دیا جائے جو تنوع کے احترام اور عدم امتیاز کی اقدار کو مضبوط کرے۔

3۔ مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ رکن ممالک کو ایسے مکالموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو مختلف طبقات میں باہمی سمجھ بوجھ اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیں۔

روایتی اور قدیمی مقامی رہنماؤں کو نفرت پر مبنی بیانیوں کا جواب دینے، جھوٹے تصورات کو بے نقاب کرنے، نقصان دہ نظریات کی تردید اور بقائے باہمی کے پیغام کو عام کرنے میں مدد دی جانی چاہیے۔

4۔ قیادت کے درمیان تعاون

سیکرٹری جنرل نے روایتی، مقامی اور سیاسی قیادت کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی تنازعات کے حل میں روایتی رہنماؤں کی شمولیت کے مواقع بڑھائے جائیں اور نفرت انگیز تقاریر اور سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے مقامی سطح پر موثر پالیسی رہنما اصول وضع کیے جانا چاہئیں۔

نوجوان، خواتین اور مذہبی رہنما

انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر اور اجتماعی جرائم کی روک تھام کی ہر کوشش میں روایتی اور مقامی رہنماؤں کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے جن میں مذہبی رہنما، نوجوان اور خواتین رہنما بھی شامل ہیں۔

انہوں نے 'اظہار نفرت کے خلاف اقوام متحدہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل' اور 'اطلاعاتی دیانت کے لیے عالمگیر اصولوں' کو تقویت دینے کے عزم کا اظہار کیا اور انہیں ایک محفوظ، ذمہ دارنہ اور بااخلاق ڈیجیٹل ماحول کے لیے رہنما دستاویز قرار دیا۔