افغانستان: طالبان کو ناپسند لباس پہننے پر خواتین کی گرفتاریوں پر تشویش

یو این جمعہ 12 جون 2026 22:30

افغانستان: طالبان کو ناپسند لباس پہننے پر خواتین کی گرفتاریوں پر تشویش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 جون 2026ء) صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے'یو این ویمن' نے افغانستان کے شہر ہرات میں گزشتہ ہفتے کم از کم 30 خواتین کو مبینہ طور پر طالبان حکام کی جانب سے نافذ کردہ لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

'یو این ویمن' کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد شدت اختیار کر رہی ہے۔

اگست 2021 میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد طالبان حکام خواتین کی تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی آزادیوں پر مسلسل نئی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

Tweet URL

ادارے نے کہا ہے کہ اگرچہ گرفتار کی جانے والی متعدد خواتین کو رہا کر دیا گیا لیکن ان واقعات نے ملک بھر کی خواتین اور لڑکیوں میں خوف اور بے چینی پیدا کی ہے۔

(جاری ہے)

خواتین اور ان کے خاندانوں پر ناجائز گرفتاریوں کے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی قائمقام سربراہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ افغانستان میں کسی خاتون کی گرفتاری بڑے سماجی داغ کے طور پر دیکھی جاتی ہے جس کے باعث رہائی کے بعد بھی خواتین اپنے خاندانوں اور برادریوں میں تشدد، تنہائی اور امتیازی سلوک کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

احتجاجی مظاہرین پر تشدد

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہرین نے ایسی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ کڑی پابندیوں اور خواتین کی حراستوں کے خلاف 9 جون کو ہرات میں ہونے والے مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے حد سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔

ماہرین کے مطابق، طالبان سکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر مردو خواتین اور بچوں پر فائرنگ کی اور بعض افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کے نتیجے میں ایک نوعمر لڑکے سمیت کم از کم دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 20 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ بعض مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم محض پتھراؤ کو مہلک طاقت کے استعمال کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی قوانین کی پابندی کا مطالبہ

ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان حکام پر لازم ہے کہ وہ ان انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کریں جن کا افغانستان فریق ہے۔ مساوات، پرامن اجتماع، اظہار رائے، نقل و حرکت کی آزادی اور من مانی گرفتاریوں سے تحفظ بنیادی انسانی حقوق ہیں۔

عوامی اعتماد کی بحالی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ان حقوق کا احترام ناگزیر ہے۔

انہوں نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے، زیرحراست افراد کے ساتھ بدسلوکی سے گریز کیا جائے اور زخمی افراد کو طبی امداد تک بلارکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔ ماہرین نے گھروں کی تلاشی کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔