راولاکوٹ واقعہ: اغوا اور تشدد کے الزامات، متاثرہ خاندان کی بازیابی اور کارروائی کا مطالبہ

ہفتہ 20 جون 2026 23:25

راولاکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جون2026ء) آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میںریٹائرڈ فوجی اہلکار نسیم کیانی کے بیٹے کو اغواہ کر لیا گیا ۔ شہری کی مبینہ گمشدگی اور تشدد کے الزامات نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گیا اور واقعے کے بعد انہیں سنگین مشکلات اور دباؤ کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے حکام سے فوری کارروائی اور بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

ریٹائرڈ فوجی اہلکار نسیم کیانی نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے دلاور کیانی کو تشدد کا نشانہ بنا کر مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد نہ صرف ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

نسیم کیانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے یا خاندان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ عناصر پر عائد ہوگی۔دلاور کیانی کے بھائی نے بھی پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا اور خاندان کو مسلسل دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے بعض ذاتی مواد کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر بھی انہیں شدید تشویش ہے۔

متاثرہ خاندان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انصاف اور تحفظ کے طلبگار ہیں اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔دوسری جانب اس معاملے پر تاحال سرکاری یا آزاد تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی حلقوں کے مطابق واقعے کی نوعیت اور پس منظر کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جبکہ حکام سے شفاف تحقیقات کی توقع کی جا رہی ہے۔سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اصل حقائق سامنے لانے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی افواہوں یا غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔