کربلا جابرانہ ملوکیت کے خلاف شریعت محمدی کے اصولوں کی پاسداری کا آفاقی منشور ہے،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

اصولوں پر سودے بازی نہیں ہو سکتی، جان و مال کی قربانی دے کر بھی باطل کے سامنے نہ جھکنا ہی اسوہِ شبیری ہے، چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ

جمعرات 25 جون 2026 20:54

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2026ء) متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یومِ عاشور کے تاریخی تناظر میں مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ میدانِ کربلا میں نواسہِ رسولؐ جگر گوشہِ بتول ؓسید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار رفقا کا اترنا اور جامِ شہادت نوش کرنا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لئے ایک دائمی ضابطہِ حیات اور ایمان کا حتمی معیار ہے، 10 محرم الحرام 61 ہجری کو تپتے ہوئے صحرا میں جو پاکیزہ لہو بہایا گیا اس نے حق و باطل کے درمیان وہ لکیر کھینچ دی ہے جسے اب قیامت تک مٹایا نہیں جا سکتا، انہوں نے کہا کہ کربلا کا واقعہ باطل نظامِ حکومت کے خلاف عملی طور پر برسرِپیکار ہونے کا ایک ابدی سبق ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ امامِ عالی مقام کا اقدام امت کو یہ یاد دلانا تھا کہ حکومت اور اقتدار جب بھی الہی اصولوں عدل و انصاف اور شریعتِ محمدیؓ سے انحراف کرے تو اس جابرانہ نظام کے سامنے مصلحت پسندی اختیار کرنا یا سر تسلیم خم کرنا صاحبِ ایمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا، ملوکیت اور آمرانہ طرزِ عمل کے سامنے کلمہِ حق کہنا ہی دین کی اصل روح ہے، چیئرمین متحدہ کا کہنا تھا کہ کربلا کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ دین کے بنیادی اصولوں اور نظریات پر کبھی سودے بازی نہیں ہو سکتی، اعلائے کلم اللہ کی خاطر جان مال آل اور پورے خاندان کی قربانی تو دی جا سکتی ہے مگر باطل کی بیعت کر کے ضمیر کا سودا کرنا فکرِ حسینی کے سراسر منافی ہے، انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ حسینی نمونہِ عمل عزم و استقلال کا وہ روشن مینار ہے جو سکھاتا ہے کہ جب مسلم معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو رہا ہو اور اقتدار کی بساط پر احکامِ الہی کی تحریف کی جا رہی ہو تو مسلمان کا کام گوشہ نشین یا تماش بین بننا نہیں ہے بلکہ اس کا اولین شرعی و اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اصلاحِ احوال کے لئے سینہ تان کر کھڑا ہو جائے خواہ وہ اس راہ میں بالکل تنہا ہو اور مادی نتائج کچھ بھی برآمد ہوں، انہوں نے کہا کہ یومِ عاشور کی فضیلت اور تقدس تو تقویمِ الہی میں پہلے سے طے شدہ تھا مگر شہادتِ حسین نے اس دن کی حرمت اور عظمت کو وہ ابدی جلا اور وقار بخشا کہ یہ دن مظلومیت صبرو استقامت اور حریت کا استعارہ بن گیا، آپ کا حالتِ سجدہ میں جامِ شہادت نوش فرمانا اس امر کی حتمی دلیل ہے کہ کربلا کی یہ تڑپتی دوپہر کسی دنیاوی جاہ و جلال کے لئے نہیں بلکہ خالصتا اقامتِ دین اور سرفرازیِ نماز کے لئے تھی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ امام عالی مقام کا وجودِ مسعود اور ان کا اختیار کردہ راستہ دراصل حضور ختم المرسلین ﷺ ہی کے دین کا تسلسل ہے اور آپ سے محبت درحقیقت اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کا ذریعہ ہے، انہوں نے واضح کیا کہ جب معاشرے میں ظلم ناانصافی اور شعائرِ دین کی تحریف ہونے لگے تو قلتِ تعداد یا وسائل کی کمی کا عذر پیش کر کے خاموشی اختیار کرنا اسوہِ شبیری کی نفی ہے، آج کے دور میں بھی معاشرتی بگاڑ کے خلاف کلمہِ حق بلند کرنا اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا ہی سچی حسینی جرات ہے اور ہمیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو اسی فکرِ حسینی کے سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔