حکومت سندھ ماہی گیروں کو تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا چاہتا ہے، صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز

جمعہ 10 جولائی 2026 20:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جولائی2026ء) صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ ماہی گیروں کو وہ تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا چاہتا ہے جو ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پورے سندھ سے آئے ہوئے ماہی گیر تنظیموں کے وفود سے ایک اہم ملاقات میں کیا، جن میں سجاول، ٹھٹہ، بدین، جامشورو، حیدرآباد، کشمور، کندھ کوٹ اور دیگر اضلاع شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں ’’فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی‘‘ کو بھی کہیں گے کہ وہ سندھ کی ساحلی پٹی کے ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ سندھ انلینڈ (اندرونِ سندھ کے پانیوں کے) ماہی گیروں کو بھی ان تمام سہولیات سے نوازے، جو سمندری ماہی گیروں کو ان کی طرف سے ملی ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

یہ میٹنگ ماہی گیروں کے مسائل سننے کے لیے صوبائی وزیر سے لیے گئے وقت کے تحت منعقد کی گئی تھی۔

’’پاکستان فشر فوک فورم‘‘ اس میٹنگ کا ایک اہم حصہ تھی۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری لائیوسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی نو منتخب چیئرپرسن فاطمہ مجید، ڈائریکٹر میرین فشریز سندھ ڈاکٹر عاصم کریم اور ڈی ایس اسٹاف محمد عمران بھی موجود تھے جبکہ فشر فوک کے چیئرمین غلام مصطفی میرانی، جنرل سیکرٹری سعید بلوچ اور مجید ملکانی نے بھی شرکت کی۔

صوبائی وزیر نے ماہی گیروں کو بتایا کہ ہم عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے تعائون سے شروع ہونے والے منصوبے "ایکوا کلچر" کے تحت سندھ کے ماہی گیروں کو مچھلی کی تجارت اور شکار کی مد میں کروڑوں روپے تک کی امداد کے منصوبے دیں گے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حق میں ہیں کہ مچھلی کے شکار پر ڈیڑھ ماہ کی پابندی ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ یہ مچھلیوں کے بچے دینے کا سیزن ہوتا ہے، اس لیے 15 جون سے یکم اگست تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب ماہی گیروں کے شناختی کارڈ نادرا سے لنک کر دیے جائیں گے، تاکہ ماہی گیر کی پہچان کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے ذریعے ہو سکے۔ اس کے لیے ہم شکار کے لائسنس اور کشتیوں کی رجسٹریشن سمیت امدادی فنڈز یا عالمی بینک کے پروجیکٹس میں صرف ان ہی ماہی گیروں کو شامل کریں گے جن کا یہ شناختی کارڈ بنا ہوا ہوگا۔ اس سے قبل، ماہی گیر تنظیموں کے رہنمائوں نے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کو اپنے اور اپنے علاقوں کو پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کیا، جنہیں صوبائی وزیر نے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل وزیراعلی ٰسندھ، سندھ کابینہ اور سندھ اسمبلی تک پہنچائے جائیں گے اور اگر اس کے لیے قانون میں ترمیم بھی کرنی پڑی تو وہ بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کے دیگر محکموں، جیسے کہ محکمہ جنگلات، محکمہ آبپاشی اور محکمہ ماحولیات کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے تاکہ مچھلی کا شکار کرنے والے ماہی گیروں کی تکلیفیں دور ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ سندھ کو لکھیں گے کہ جب ہم نے بل پاس کر کے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر دیا ہے، تو پھر کہیں بھی ٹھیکہ نہیں ہونا چاہیے۔

صرف لائسنس یافتہ ماہی گیروں کو ہی مچھلی کے شکار کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ ایل بی او ڈی کا زہریلا پانی سندھ کے دریائوں، نہروں اور جھیلوں کا ماحول خراب کر کے آبی حیات (آبی مخلوق) کے لیے بڑا نقصان پہنچا رہا ہے۔ سندھ میں 1209 آبی گزرگاہوں پر رہنے والے ماہی گیروں کو چھت، کپڑا، روزگار اور تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

جس پر صوبائی وزیر نے انہیں یقین دلایا کہ آپ کے تمام مسائل محکمہ ماہی گیری سندھ حل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم کوشش کر کے ایک "ایڈوائزری کونسل" تشکیل دیں گے، جس میں ماہی گیری تنظیموں کے نمائندے، فشریز کے ممبران اور انلینڈ کے افسران شامل ہوں گے، جو تمام مسائل پر بیٹھ کر ان کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔