مزاحمتی ادب شعور، حق گوئی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا استعارہ ہے، ظہیر حسین حیدری کی نئی سندھی کتاب ’’لہو ما لات برندی آ‘‘ کی تقریبِ رونمائی

تقریب میں ادیبوں، دانشوروں، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی شرکت،مقررین نے کتاب کو مزاحمتی ادب اور فکری جدوجہد کا اہم سنگِ میل قرار دیدیا

ہفتہ 25 جولائی 2026 19:45

بدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2026ء) سندھ کے معروف سیاسی، سماجی، علمی و ادبی شخصیت، مصنف اور مزاحمتی قلم کار ظہیر حسین حیدری کی نئی سندھی تصنیف ’’لہو ما لات برندی آ‘‘ کی تقریبِ رونمائی نذیر حسین حیدری اکیڈمی کے زیرِ اہتمام خواجہ جماعت ہال بدین میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سندھ بھر سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سیاسی، سماجی، مذہبی اور ادبی شخصیات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ممتاز علمی و ادبی شخصیت پروفیسر اخلاق احمد اخلاق تھے۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ قلم ہمیشہ حق، سچ، انصاف اور انسانیت کی آواز رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھا کر اس کی عظمت کو واضح کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کا قلم ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، جبکہ ان کی تحریروں میں واقعہ کربلا، ائمہ اہلِ بیت کی قربانیاں اور حضرت علی کی انسان دوستی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔

ان کے بقول یہ کتاب حسینیت، مزاحمت اور حق کی جدوجہد کا مؤثر استعارہ ہے جو ظلم اور مظلوم کے درمیان جاری تاریخی کشمکش کو فکری انداز میں پیش کرتی ہے۔اس موقع پر مصنف ظہیر حسین حیدری نے کہا کہ حضرت علی اور حضرت امام حسین پوری انسانیت کے لیے حق، عدل، حریت اور استقامت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے مظلوموں کے لیے ظلم کے خلاف جدوجہد کا ابدی پیغام ہے۔

انہوں نے نیلسن منڈیلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے عظیم رہنماؤں نے بھی امام حسین کی قربانی سے استقامت، آزادی اور مزاحمت کا درس حاصل کیا۔عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما اور ماہرِ تعلیم خادم تالپر نے کہا کہ کتاب میں انسان دوستی، مزاحمت اور حق پر ثابت قدم رہنے کا واضح پیغام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے اپنے والد کامریڈ نذیر حسین کے فکری ورثے کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے، تاہم نئی نسل کے تقاضوں کے مطابق جدید، سائنسی اور فکری موضوعات پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر شفقت حسین جعفری نے کہا کہ مصنف نے اپنی تحریروں کے ذریعے حق و سچ کی روایت کو زندہ رکھا ہے، جبکہ خواجہ جماعت بدین کے صدر مختیار حسین خواجہ نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری کی تمام تصانیف حسینیت کی فکری روایت کو فروغ دیتی ہیں، تاہم لہو ما لات برندی ا ایک اہم تاریخی اور فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والی نسلوں کو حق، سچ، قربانی اور استقامت کا درس دیتی ہے۔

مختیار علی خواجہ نے کہا کہ کتاب میں عشقِ علی، حبِ امام حسین، ایثار، قربانی اور سچائی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔تقریب سے قائم الدین ڈاہری، ناصر بلوچ، مولانا عابد حسین عابدی، مولانا حیدر علی، حسنین خواجہ، اللہ بچایو بھرگڑی، سینئر صحافی تنویر احمد آرائیں، غلام مصطفیٰ جمالی، ظفر حسین حیدری اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ظہیر حسین حیدری نے اپنے قلم کو مظلوم طبقے کی آواز بنایا اور ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف مؤثر انداز میں لکھا۔ مقررین کے مطابق انسانی تاریخ حق و باطل کی کشمکش سے عبارت ہے اور یہی اس کتاب کا بنیادی فکری محور بھی ہے۔ انہوں نے کتاب کو مزاحمتی ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں انسانی کردار، سماجی جدوجہد اور حق و باطل کی کشمکش کو فکری اور ادبی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ظفر حسین حیدری نے کہا کہ ’’لہو ما لات برندی آ‘‘ سندھ کے مزاحمتی ادب میں ایک قیمتی اضافہ اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری سرمایہ ہے، جو عشقِ علی، حبِ امام حسین اور واقعہ کربلا کے آفاقی پیغام کو مدلل انداز میں بیان کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ظہیر حسین حیدری کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی نئی تصنیف کو انقلابی اور مزاحمتی ادب کی ایک اہم اور قابلِ قدر کاوش قرار دیا۔ اس موقع پر معروف شاعر اشرف حسرت جعفری نے اپنا انقلابی کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔