ق* کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پرتشدد بیانیے سے ارکان کی لاتعلقی کا سلسلہ جاری

مختلف ارکان نے کمیٹی کے طرزِ عمل اور پرتشدد راستے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے علیحدگی کا اعلان کیا

اتوار 16 اگست 2026 17:15

r اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 اگست2026ء) کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ پرتشدد بیانیے اور ریاست مخالف مؤقف سے اس کے متعدد ارکان کی لاتعلقی کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف ارکان نے کمیٹی کے طرزِ عمل اور پرتشدد راستے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔دستیاب بیان کے مطابق 9 جون کو احسان شبیر اور راجہ سلطان جبکہ 21 جون 2026 کو ایڈووکیٹ راجہ امجد علی خان نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

اسی طرح 22 جون کو انجم زمان اور 23 جون کو کمیٹی کے کور ممبر افتخار محمود نے مبینہ انتشار پسند بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی۔ **26 جون کو مہتاب احمد، رضوان اور محمد یونس نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

بیان کے مطابق 28 جون کو کور ممبر فیصل گیلانی اور رکن محمد عابد جبکہ 29 جون کو رکن شہزاد لون نے بھی ریاست مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

بعد ازاں محمد عثمان نے 4 جولائی جبکہ کور ممبر سعید امجد نے یکم اگست کو کمیٹی سے شدید اختلافات کے باعث لاتعلقی کا اعلان کیا۔کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے ہجیرہ گوبڑ کے رہائشی محمد عابد کے بیان کے مطابق وہ 27 تاریخ کو ہونے والے لانگ مارچ میں شریک تھے اور ان کے پاس خودکار ہتھیار بھی تھا۔ محمد عابد کے مطابق انہوں نے 28 تاریخ کو سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دیگر ارکان سے بھی ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی۔

ماہرین کے مطابق عوامی مسائل کے نام پر تشدد اور ریاست مخالف پروپیگنڈے سے ارکان کی مسلسل علیحدگی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اندر موجود شدید اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے مبینہ پرتشدد بیانیے نے اس کے کور ممبران سمیت دیگر ارکان کو بھی اپنے مؤقف پر نظرِثانی اور تنظیم سے لاتعلقی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :