برطانیہ، پناہ گزینوں میں صنفی تعلقات سے متعلق ہدایات پر مبنی پمفلٹ تقسیم

زنا بالبجبر اور 16 سال سے کم عمر افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرنا جرم ہے،پمفلٹ میں انتباہ

جمعہ 21 اگست 2026 10:40

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) برطانیہ میں پناہ گزین اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں سرکاری حکام کی طرف سے ایک منفرد اور عجیب پمفلٹ موصول ہوا جس میں ان کے لیے وضاحت کی گئی ہے کہ لڑکیوں کا زبردستی ریپ کرنا، یا 16 سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا برطانیہ میں جرم سمجھا جاتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پمفلٹ میں ان سے اپنے تعلقات میں محتاط رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے یہ پمفلٹ جنسی جرائم کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مرتکب ایسے پناہ گزین پائے گئے ہیں جو حال ہی میں برطانیہ کے علاقے میں پہنچے ہیں۔پناہ گزینوں کو ایک ایسی دستاویز ملی ہے جس میں ملک میں رہنے کے لیے قواعد و ضوابط اور توقعات کی تفصیل دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ان ضوابط میں تعلقات، شادی اور ان تعلقات کو شروع کرنے سے پہلے رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت سے متعلق امور شامل ہیں۔

یہ ہدایات برطانوی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک دستاویز کا حصہ ہیں جس کا عنوان برطانیہ میں رویوں اور توقعات کو سمجھنا ہے۔ یہ دستاویز جنسوں کے درمیان تعلقات اور عوامی مقامات پر احترام سے متعلق بھی راہنمائی فراہم کرتی ہے۔برطانیہ کے متعدد مقامی میڈیا ذرائع کی طرف سے شائع ہونے والی اس دستاویز میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد یہ سمجھنے میں افراد کی مدد کرنا ہے کہ برطانیہ میں رہتے ہوئے ان سے کیا توقع کی جاتی ہے۔

نو صفحات پر مشتمل یہ دستاویز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قواعد و ضوابط اور توقعات صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہاں رہنے والے ہر شخص پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہ وہ قانونی وضاحتیں ہیں جو تمام لوگوں پر لاگو ہوتی ہیں اور صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں ملک میں نافذ العمل قوانین کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بتایا جا رہا ہے۔

دستاویز میں خبردار کیا گیا کہ ریپ، 16 سال سے کم عمر شخص کے ساتھ منسلک ہونے کے تعلق کا آغاز اور گھریلو تشدد سنگین جرائم ہیں۔ یہ وہ جرائم ہیں جن کے نتیجے میں قید، امداد اور رہائش کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پناہ کی درخواستوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم برطانیہ آنے والے ہر شخص سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے قوانین کی پاسداری کرے ۔

عدم پاسداری کی صورت میں انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں پناہ کی درخواست کا رد ہونا اور ملک سے بے دخلی بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت کے تحت پناہ حاصل کرنے میں ناکام ہونے والے پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل 2010 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ منسلک ہونے والے تعلقات اور رضامندی سے متعلق ہدایات میں پناہ گزینوں کو بتایا گیا ہے کہ تمام معاملات میں رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔

یہ ہدایات مرد اور عورت کے درمیان مساوات کے موضوع کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا کہ مساوی حقوق برطانیہ کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ مساوی حقوق قانون کے تحت محفوظ ہیں۔ دستاویز دیگر لوگوں کے احترام کی بھی دعوت دیتی ہے خواہ آپ ان کے عقائد یا طرز زندگی سے مختلف رائے رکھتے ہوں۔ دستاویز میں ان لوگوں کے لیے امدادی نمبر فراہم کیے گئے جو بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں۔

دستاویز نے پناہ گزینوں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ اٹیچمنٹ کی نوعیت کے تبصرے نہ کریں، چاہے ان کا مقصد تعریف ہی کیوں نہ ہو۔ ان تنبیہات میں چومنے کی آوازیں نکالنے، سیٹی بجانے، لوگوں کا تعاقب کرنے، توہین آمیز اشارے کرنے یا زبانی بدسلوکی سے گریز کرنا بھی شامل ہے۔شیڈو ہوم سکریٹری کرس فلپ نے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ان غیر قانونی تارکین وطن - جن میں اکثریت نوجوان مردوں کی ہے کو خواتین کے ساتھ مہذب طریقے سے رفتار رکھنے کی تربیت دینے کی کوشش کرنے کے بجائے وزارت داخلہ کو چاہیے کہ انہیں ملک بدر کر دے۔