کراچی میں نومولود کی گمشدگی کے معاملے پر خاتون کی الٹراساؤنڈ رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

مریضہ کو13 ہفتوں سے زائد عرصے تک ماہواری نہیں ہوئی تھی، الٹراساؤنڈ میں رحم کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق ہے اور حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔ رپورٹ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 29 اگست 2026 19:12

کراچی میں نومولود کی گمشدگی کے معاملے پر خاتون کی الٹراساؤنڈ رپورٹ ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 29 اگست 2026ء ) کراچی کے علاقے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کے معاملے پر خاتون کی 16 فروری 2026 کو کرائے گئے الٹراساؤنڈ رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئی ہے، رپورٹ کے مطابق مریضہ کو 13 ہفتوں سے زائد عرصے تک ماہواری نہیں ہوئی تھی، الٹراساؤنڈ میں رحم کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق ہے اور حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق الٹراساؤنڈ رپورٹ میں رحم کو آگے کی جانب جھکا ہوا اور نارمل سائز کا قرار دیا گیا، جس کا سائز 6.9 × 3.6 × 4.1 سینٹی میٹر ریکارڈ کیا گیا، اینڈومیٹریئم مرکزی طور پر موجود تھا اور اس کی موٹائی 1.2 سینٹی میٹر تھی۔ دائیں اووری بڑی اور پولی سسٹک اووری جیسی پائی گئی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس سے حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔

(جاری ہے)

ماہواری نہ آنے کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، حمل کی صورتحال جانچنے کیلئے سیرم بی ایچ سی جی ٹیسٹ تجویز کیا گیا تھا۔

سونولوجسٹ ڈاکٹر شبنم نبی نے بھی سیرم بی ایچ سی جی ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ 27 اگست کو ایک مبینہ جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ لے کر اسپتال آئیں، جس پر 8 اگست کی تاریخ درج تھی۔ انتظامیہ کے مطابق رپورٹ پر ڈاکٹر کے مبینہ جعلی دستخط اور اسپتال کا جعلی لوگو موجود تھا۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ مریضہ شدید درد میں تھیں، جس کے باعث رپورٹ کی تفصیلات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور فوری طور پر آپریشن شروع کردیا گیا۔

آپریشن کے دوران بچہ دانی بہت چھوٹی پائی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال سے متعلق والد کو لیبر روم میں بلا کر دکھایا گیا تاہم وہ گھبرا کر آپریشن روم سے باہر چلے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔ تمام ریکارڈ میڈیکل بورڈ کو فراہم کردیا گیا ہے اور میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہوجائے گی۔

متعلقہ عنوان :