دیہی ہیلتھ یونٹس بند ہونے پر سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کا اظہار تشویش

جمعرات 3 ستمبر 2026 17:15

دیہی ہیلتھ یونٹس بند ہونے پر سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کا اظہار تشویش
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 ستمبر2026ء) سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں دیہی ہیلتھ یونٹس میں خاتون ڈاکٹر کی غیر حاضری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے بلوچستان کے دیہی علاقوں میں ہیلتھ یونٹس فعال نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی علاقوں کے ہیلتھ یونٹس بند پڑے ہیں، بیمار افراد کہاں جائیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تحصیل اور ضلعی ہسپتال دیہی علاقوں سے 80 سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں، ہسپتالوں میں فنڈز کی کمی ہے جبکہ مریضوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔جمعرات کوسماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبد اللطیف کاکڑ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہیلتھ یونٹس کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی بنائی گئی ہے اور دیہی بنیادی ہیلتھ یونٹس کو فعال کیا جا رہا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کو صحت کے شعبے اور بالخصوص دیہی ہیلتھ یونٹس کی فعالیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔