ایران غیرملکیوں سے رابطے پر سزا کا مجوزہ قانون واپس لے، یو این مشن

یو این ہفتہ 5 ستمبر 2026 04:30

ایران غیرملکیوں سے رابطے پر سزا کا مجوزہ قانون واپس لے، یو این مشن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 ستمبر 2026ء) انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمان میں زیرغور اس مجوزہ قانون کو فوری واپس لے جس کے تحت غیر ملکی افراد اور اداروں سے رابطہ رکھنے پر صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں کو 30 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

مشن نے خبردار کیا ہے کہ وسیع تر سرگرمیوں کا احاطہ کرتے اور مبہم الفاظ میں مرتب کیے گئے اس قانون کا مقصد بنیادی آزادیوں کو دبانا اور ایرانی عوام کو عالمی برادری سے مزید الگ تھلگ کرنے کی جانب ایک خطرناک قدم ہے۔

'غیر ملکی دراندازی کے تدارک' کے عنوان سے پیش کیے گئے اس قانون کے تحت مخصوص ممالک، ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعاون یا رابطے کو سلامتی سے متعلق سنگین نوعیت کے جرائم سمجھا جائے گا اور ایسے افراد کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

مشن کی سربراہ سارا حسین نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت شہریوں کے دنیا سے کسی بھی رابطے کو بلاامتیاز جرم قرار دینے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ یہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایرانی عوام پہلے ہی طویل عرصہ سے عائد بین الاقوامی پابندیوں، حکومت کی جانب سے حالیہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ طویل عرصہ سے بند ہونے اور امریکا و اسرائیل کے فضائی حملوں کے باعث سخت مشکلات اور تنہائی کا شکار ہیں۔

مجوزہ قانون کیا ہے؟

اس قانون کے تحت ایرانی شہریوں پر لازم ہو گا کہ وہ غیر ملکی افراد کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کی اطلاع دیں اور ان کا اندراج کرائیں۔ انہیں کسی غیرملکی فرد سے ملنے کے لیے ایک آن لائن نظام سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ہو گی جس میں ایرانی وزارت انٹیلیجنس اور پاسداران انقلابکے انٹیلیجنس ادارے کے سلامتی سے متعلق تحفظات کو ترجیح دی جائے گی۔

مجوزہ قانون کی رو سے، اگر ایرانی شہری روزمرہ نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں کتابوں اور مضامین کی اشاعت، اعداد و شمار اور تجزیوں کا تبادلہ، سائنسی یا علمی تعاون، غیر ملکی یا دشمن قرار دیے گئے ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھنا یا اخبار اور ویب سائٹ چلانا شامل ہیں۔

غیرملکیوں کے ساتھ ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے بھی حکومتی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ان میں کسی ورکشاپ اور تربیتی کورس میں بالمشافہ یا آن لائن شرکت، کانفرنسوں اور فنون لطیفہ کے میلوں میں حصہ لینا، اسناد اور دیگر اعزازات کا حصول، فلم، موسیقی اور بصری فنون کی تیاری، پیشکش اور نمائش شامل ہیں۔

معاشی، تجارتی اور مالیاتی سرگرمیاں بھی حکومتی منظوری سے مشروط ہوں گی جن میں رقوم کی منتقلی یا اشیا اور خدمات کی فراہمی بھی شامل ہے۔

تجارت، تعلیم اور آزادیوں پر قدغن

مشن کی رکن ویویانا کرسٹیسیوک نے کہا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہو گیا تو بیرونی دنیا کے ساتھ تمام روابط حکومتی نگرانی اور پابندی کے تابع ہو جائیں گے۔ یہ قانون شہریوں کے حقوق کو مزید محدود کرے گا اور تجارت، تعلیم، آزادی اظہار اور انصاف کے حصول سمیت زندگی کے کئی شعبوں پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔

اس قانون کی منظوری سے بیرون ملک افراد اور اداروں کے ساتھ ایرانی شہریوں کے کسی بھی طرح کے رابطوں کے حوالے سے خوف اور احتیاط کی ایسی فضا پیدا ہوگی جو لوگوں کو ایسے روابط سے گریز پر مجبور کر دے گی۔ اس کے اثرات زندگی کے تمام شعبوں حتیٰ کہ چھوٹے پیمانے کی تجارتی سرگرمیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اس قانون کے تحت دی جانے والی سزائیں شخصی آزادی اور تحفظ کے حق کی مزید خلاف ورزی کا سبب بھی بنیں گی۔

یو این مشن سے رابطے کا حق

مشن نے یاد دلایا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قراردادوں کے تحت سول سوسائٹی کے کارکنوں اور حقوق کی پامالی کے متاثرین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی خوف، دھمکی یا انتقامی کارروائی کے بغیر اس مشن تک آزادانہ رسائی حاصل کریں اور اس سے رابطہ رکھیں۔

مشن کے رکن میکس ڈو پلیسیس نے کہا ہے کہ اس قانون کے تحت ایرانی شہریوں کی جانب سے اس مشن کے ساتھ کسی بھی رابطے کو قابل سزا قرار دینا انتقامی کارروائی کے مترادف ہو گا جبکہ ایسی سرگرمی کو جرم قرار دینے کی دھمکی بجائے خود جبر کی ایک شکل ہے۔