خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس، حسنِ قرأت، نعت خوانی اور تقاریری مقابلے اختتام پذیر

بدھ 9 ستمبر 2026 17:50

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 ستمبر2026ء) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کی اسلامک سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سیرت النبی ﷺ کانفرنس اور ”مقابلہ نورِ قرأت و ندائے مصطفیٰ ﷺ“ باوقار انداز میں اختتام پذیر ہوگئے۔کے ایم یو پشاور تر جمان کے مطابق تقریب میں فیکلٹی، انتظامی عملے اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ان مقابلوں کا بنیادی مقصد نوجوان نسل میں حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ، اسوۂ حسنہ اور تعلیمات کے حوالے سے فہم و شعور اجاگر کرنا تھا۔ پروگرام کی آرگنائزنگ ٹیم میں طلبہ کے علاوہ انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ سائنسز (آئی این ایس)، کے ایم یو کے اسلامک سوسائٹی کے صدر لیکچرر حماد بھی شامل تھے۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی تھیں، جنہوں نے حسنِ قرأت، نعت خوانی اور سیرت پر مبنی تقاریری مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفیکیٹس اور انعامات تقسیم کیے۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ سائنسز ڈاکٹر نجمہ ناز نے کہا کہ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ محض تاریخی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک عملی اور زندہ سرچشمۂ ہدایت کے طور پر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کا جامع ترین عملی نمونہ اور پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے، جو ہمیں عزم، استقامت، امید اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا درس دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں بے یقینی، مایوسی اور اقدار کے بحران کے باعث سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ مختلف ملحقہ اداروں کے طلبہ کی بھرپور شرکت نوجوان نسل کی سیرتِ طیبہ سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ نسل در نسل محفوظ منتقل ہوتی آئی ہے اور قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔

انہوں نے ڈاکٹر نجمہ ناز اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایسے پروگراموں کو سالانہ تعلیمی کیلنڈر کا مستقل حصہ بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے زور دیا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا حقیقی اظہار صرف تقاریر اور نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ کردار، طرزِ عمل اور انسانیت کی خدمت میں نمایاں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ سیرتِ طیبہ کو طلبہ کی کردار سازی اور قیادت کی تربیت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔

متعلقہ عنوان :