اسلام آباد ہائیکورٹ اس درخواست کوانٹرٹین کرے گی تو مقننہ کی دانست ہی ختم ہوجائے گی.شاہ فیصل

درخواست گزار نے ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لانگ مارچ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ متعدد جماعتیں کررہی ہیں، جس جماعت کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے اسے کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا، اسے فریق بنایا جانا چاہئے.ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے ‘کے دلائل

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 11 ستمبر 2026 15:02

اسلام آباد ہائیکورٹ اس درخواست کوانٹرٹین کرے گی تو مقننہ کی دانست ہی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر ۔2026 ) اسلام آباد ہائیکورٹ اس درخواست کو انٹرٹین کرے گی تو مقننہ کی دانست ہی ختم ہوجائے گی، سوموٹو اختیار ختم ہوچکا ہے، اب مفاد عامہ کی درخواستوں کے ذریعے سوموٹو کا رجحان بن رہا ہے تحریک انصاف احتجاج کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ درخواست گزار نے ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لانگ مارچ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ متعدد جماعتیں کر رہی ہیں، جس جماعت کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے اسے کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا، اسے فریق بنایا جانا چاہئے.

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی لانگ مارچ کر رہی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ صرف عدالت کی معاونت کر رہے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مشاورت کی ہے اور کیا وہ حکومت خیبرپختونخوا کے نمائندے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ہیں. چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کی دو ٹوپیاں ہیں، ایک وزیراعلیٰ کی اور دوسری سیاسی جماعت کے رکن کی، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اگر وہ پارٹی کے رکن نہ ہوتے تو وزیراعلیٰ کیسے بنتے، عدالت کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کے حلف کے متعلقہ حصے بھی پڑھ کر سنائے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو آئین، قانون یا ملک کی سالمیت کے خلاف ہو.

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 5 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہئے، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو. چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بیان کیوں دیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات سیاسی جماعت سے متعلق نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سے متعلق ہے، وزیراعلیٰ ریاست سے مخلص ہونے کا حلف لے چکے ہیں، سیاسی جلسے سے متعلق بیان پر وزیراعلیٰ خود جواب دے سکتے ہیں.