اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 ستمبر 2026ء) حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ''سعودی جہازوں کے سوا تمام شپنگ کمپنیوں کے لیے یہ بحری راستہ محفوظ ہے۔ مگر سعودی جہازوں پر پابندی برقرار رہے گی۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حوثی باغیوں نے اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل باب المندب کے علاقے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔
یہ آبی گزرگاہ بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں مزید کہا، ''ہم ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی کی پالیسی پر عمل جاری رکھیں گے‘‘۔
(جاری ہے)
ان کے بقول یہ سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ''جارحیت‘‘ رک نہیں جاتی اور یمنی عوام پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں۔
حوثیوں کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اپنی بحری پابندیاں برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ دیگر بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ باب المندب کے راستے جہاز رانی جاری رہ سکتی ہے۔
ایراننواز حوثی باغی باب المندب آبنائے میں واقع اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل جزیرہ پیریم پر بھی قبضہ کر چکے ہیں جبکہ یمنی فوج نے وہاں سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو بندرگاہی شہر ذوباب میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔اسی اثنا سعودی عرب نے مخا شہر میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب نے جمعے کو اس یمنی ساحلی شہر کے ہوائی اڈے پر فضائی حملے کیے۔
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ''بین الاقوامی برادری کو تشویش لاحق نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب حملے جاری رکھتا ہے تو حوثیوں کے پاس ''اہم اہداف کی فہرست‘‘ موجود ہے۔