ڈارک ویب پر15کروڑ سے زیادہ امریکی اورکینیڈین شہریوں کی شناختی دستاویزات فروخت ہونے کا انکشاف

شناختی دستاویزات کی اسکین شدہ کاپیاں تصدیق کے لیے موجود‘ایف بی آئی کی بڑے پیمانے پر خفیہ تحقیقات‘دائرہ کار کئی براعظموں تک پھیل سکتا ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 12 ستمبر 2026 16:52

ڈارک ویب پر15کروڑ سے زیادہ امریکی اورکینیڈین شہریوں کی شناختی دستاویزات ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 ستمبر ۔2026 ) امریکا اور کینیڈا کے شہریوں کی شناختی دستاویزات سے متعلق ایک بڑے سائبر سیکیورٹی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں 15 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنسوں کے ڈیجیٹل اسکینز ڈارک ویب پر فروخت کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے.

(جاری ہے)

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں سائبر سیکیورٹی صحافی برائن کریبس کی تحقیقات کے مطابق ڈارک ویب پر ایک نئی شناختی چوری کی سروس نے امریکا اور کینیڈا کے شہریوں کے ڈرائیونگ لائسنسوں سمیت دیگر اہم شناختی دستاویزات کا وسیع ذخیرہ فروخت کے لیے پیش کیا اس میں شناختی کارڈز، سفری دستاویزات اور بعض طبی کارڈز کا ڈیٹا بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے.

تحقیقات کے دوران ایک انتہائی تشویشناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب برائن کریبس نے مبینہ طور پر فروخت کے لیے پیش کیے گئے نمونوں میں اپنے ڈرائیونگ لائسنس کی معلومات بھی دیکھیں دیگر افراد کے ریکارڈز کی بھی تصدیق کی گئی، جس سے اس خدشے کو تقویت ملی کہ ڈارک ویب پر موجود ڈیٹا محض جعلی یا فرضی معلومات پر مشتمل نہیں تھا. رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا ایک ایسے ڈارک ویب پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا تھا جہاں خریدار مبینہ طور پر شناختی دستاویزات کے اسکین دیکھ کر انہیں خرید سکتے تھے تاہم اس وسیع ڈیٹا کے اصل ماخذ کا ابھی تک حتمی طور پر تعین نہیں ہوسکا امریکی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں.

ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ ڈرائیونگ لائسنسوں کے مبینہ بڑے پیمانے پر افشا اور فروخت کے معاملے کی چھان بین کررہی ہے، تاہم جاری تحقیقات کے باعث ادارے نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے. سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ڈیٹا کی مکمل مقدار اور اصلیت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ سرکاری شناختی دستاویزات کے افشا کے بڑے ترین واقعات میں شمار ہوسکتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کی مکمل ڈیجیٹل نقل شناخت کی جعل سازی، مالی فراڈ اور مختلف آن لائن شناختی تصدیقی نظاموں کو دھوکا دینے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے رپورٹ سامنے آنے کے فوراً بعد متعلقہ ڈارک ویب سروس غائب ہوگئی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مبینہ طور پر چوری کیا گیا ڈیٹا ختم ہوگیا ہے .

ایک بار شناختی معلومات مجرمانہ نیٹ ورک تک پہنچ جائے تو اسے دوبارہ فروخت یا مختلف جرائم میں استعمال کیے جانے کا خدشہ برقرار رہتا ہے اس واقعے نے شناخت کی آن لائن تصدیق کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں. ماہرین کے مطابق بینکنگ، سفری خدمات، گاڑیوں کے کرائے اور دیگر شعبوں میں شناختی دستاویزات کی ڈیجیٹل کاپیاں جمع کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں کسی ایک بڑے ڈیٹا لیک کے اثرات لاکھوں افراد تک پہنچ سکتے ہیں حکام کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ مبینہ طور پر اتنے بڑے پیمانے پر شناختی دستاویزات تک رسائی کیسے حاصل کی گئی، ڈیٹا کہاں سے چوری ہوا اور اس کے پیچھے کون سا گروہ یا ادارہ موجود ہے ابھی تک 15 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈز کے مکمل طور پر چوری ہونے اور ایک ہی ذریعے سے حاصل کیے جانے کی حتمی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی سائبر سیکیورٹی محققین نے دستیاب نمونوں میں متعدد اصلی شناختی دستاویزات کی تصدیق کی ہے.