خیبرپختونخواہ کی وزارتِ اعلیٰ کا تنازعہ، شیرافضل مروت کی درخواست پر سہیل آفریدی کو نوٹس جاری

عمران خان سزا یافتہ ہیں وہ نااہل ہوچکے، نا اہل پارٹی سربراہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کرسکتا، سہیل آفریدی کو غیرآئینی طریقے سے وزیرِاعلیٰ بنایا گیا؛ شیرافضل مروت کے آئینی عدالت میں دلائل

Sajid Ali ساجد علی پیر 14 ستمبر 2026 11:33

خیبرپختونخواہ کی وزارتِ اعلیٰ کا تنازعہ، شیرافضل مروت کی درخواست پر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر 2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے رکن قومی اسمبلی اور قانون دان شیر افضل مروت کی جانب سے سہیل آفریدی کو وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواہ کے عہدے سے ہٹا کر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عہدے پر بحال کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت تمام فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے باضابطہ جواب طلب کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم 3 رکنی آئینی بنچ نے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کی، اپنے دلائل میں شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سزا یافتہ اور نااہل ہو چکے ہیں، آئین و قانون کی روشنی میں ایک نااہل پارٹی سربراہ کو یہ قانونی یا آئینی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کا انتخاب یا تبدیلی کا حتمی فیصلہ کرسکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی مرضی سے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ عمران خان کی ہدایت کا سہارا لے کر ان سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا، جو آئین کے طے شدہ طریقہ کار اور اس موضوع پر موجود سپریم کورٹ کے صریح فیصلوں کے منافی ہے، سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تعیناتی سرے سے ہی غیر آئینی اور کالعدم ہے، جب پہلا استعفیٰ بھیجا گیا تو گورنر نے اسے منظور نہیں کیا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر دوسری مرتبہ ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ پیش کیا گیا۔

شیر افضل مروت نے انکشاف کیا کہ ’علی امین گنڈاپور کو ان کے عہدے سے تاحال باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی ہی نہیں کیا گیا، جب تک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو مکمل طور پر نہ اپنایا جائے، اس وقت تک کی جانے والی کوئی بھی نئی سیاسی یا انتظامی تعیناتی مکمل طور پر غیر آئینی تصور ہوگی‘، بعد ازاں عدالت نے مقدمے کو صوبائی انتظامیہ اور آئینی ضوابط کی بنیادی تشریح سے تعبیر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا تاکہ آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت حاصل کی جا سکے، آئینی بنچ نے فریقین کو اپنے تحفظات اور تحریری جوابات داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔