پمز بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی: ذمہ دار افسران کے خلاف فوری ایف آئی آر اور ای سی ایل میں نام شامل کرنے کی ہدایت

سینیٹ نیشنل ہیلتھ کمیٹی کا پمز آتشزدگی، فارمولا دودھ کے اشتہارات اور ایم ڈی کیٹ سمیت اہم طبی معاملات پر سخت نوٹس ،پمز سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، ماں کے دودھ سے متعلق آگاہی پیغام لازمی، نرسنگ طلبہ کے مسائل حل کرنے کی ہدایت

پیر 14 ستمبر 2026 21:30

،اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 ستمبر2026ء) سینیٹ کی نیشنل ہیلتھ کمیٹی نے پمز ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔اجلاس کی صدارت سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، شاہ زیب درانی، ثمینہ ممتاز زہری، روبینہ خالد اور راحت جمالی نے شرکت کی۔

کمیٹی نے پی آئی ایم ایس کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے پر سنگین نوٹس لیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے وزارت صحت اور پی آئی ایم ایس انتظامیہ کی جانب سے ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ وزارت کے اہلکاروں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست بھیج دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے واضح کیا کہ پمز انتظامیہ اور وزارت صحت کو خود متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرنی چاہیے، وزارت داخلہ سے درخواست کرنے کی بجائے۔

سینیٹر سید مسرور احسن نے پوچھا کہ جلی ہوئی لاشوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے تھے یا نہیں۔ جس پر پمز حکام نے بتایا کہ 14 لاشیں والدین کے حوالے کر دی گئیں اور شناخت شناخت کی پٹیوں کے ذریعے کی گئی۔ کمیٹی نے اس دعوے پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ لاشیں جل جانے کے باوجود شناخت کی پٹیاں اور لکھا ہوا نام محفوظ رہا۔ کمیٹی نے ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور قانون کے مطابق ان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات کے حوالے سے کمیٹی نے پییمرا کو ہدایت کی کہ تمام اشتہارات اور پیکجنگ پر اردو میں واضح طور پر ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیںکا پیغام درج کیا جائے اور اشتہارات میں وائس اوور بھی شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے وزارت صحت کو 30 سیکنڈ کا پبلک سروس میسج تیار کر کے پیمرا کو نشر کرنے کے لیے دینے کا حکم دیا۔ پی ایم آر اے کی پیشکش کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مکمل تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں بلوچستان کے طلبہ کے مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ نرسنگ کونسل نے ایچ ای سی کے مشورے سے معاملہ حل کر دیا ہے اور ان کی ڈگریاں جلد تسلیم کر لی جائیں گی۔ طلبہ اب اپنی پسندیدہ جگہ پر پانچویں سمسٹر میں داخلے کے اہل ہیں۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے پولی کلینک میں انٹرن شپ کرنے والے نرسنگ طلبہ کی مئی سے اگست 2026 تک کی وظیفہ ادائیگی نہ ہونے پر کمیٹی نے فوری حل اور اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پی ایم ڈی سی کے حوالے سے کمیٹی نے دہرایا کہ بی ڈی ایس کی ڈگری چار سال پلس ایک سال ہاؤس جاب ہونی چاہیے، پانچ سال پلس ایک سال نہیں۔ پی ایم ڈی سی کو اس سلسلے میں اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔ اجلاس میں مائیکرو بائیالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو کیمسٹری کی ڈگری رکھنے والوں کے لیے اضافی ایک سال کی تعلیم کی تجویز کو کمیٹی نے مسترد کر دیا۔

اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن (ترمیمی) بل 2026 پر بحث کے بعد اسے اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے نجی ہسپتالوں کی زیادہ فیس لینے پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں ایم ڈی کیٹ امتحان کے حوالے سے سب کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی گئی۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے پی ایم ڈی سی کی کارکردگی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ اس سلسلے میں آج منگل کو ایک اور اجلاس ہوگا جس میں پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ امتحان کی تیاری، منصوبہ بندی اور ہم آہنگی پر بریفنگ دے گی۔ اعجاز خان