ملک میں رواں سال مالیاتی فراڈ کی 68 ہزار سے زائد شکایات، پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ

این سی سی آئی اے کے پاس صرف 14 رپورٹنگ مراکز اور 111 تفتیشی افسران، 832 نئے اہلکاروں کی بھرتی کا عمل شروع ۷ مختلف سرکاری اداروں، بینکوں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام استعمال کرکے شہریوں سے فراڈ کیا جا رہا ہے کمیٹی کو 140 شکایات قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کو بھجوائی گئیں، جن میں 80 سائبر فراڈ کے کیسز شامل تھے، سیکرٹری پارلیمانی امور ;ملک بھر میں صرف 14 رپورٹنگ مراکز اور 503 ملازمین ، اسلام آباد میں 12 تفتیشی افسران جبکہ پورے ملک میں مجموعی طور پر 111 تفتیشی افسران خدمات انجام دے رہے ہیں، حکام

بدھ 16 ستمبر 2026 19:15

․!اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 ستمبر2026ء) : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں رواں سال اب تک آن لائن مالیاتی فراڈ سے متعلق 68 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوچکی ہیں، جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران بھی سائبر اور مالیاتی فراڈ کی بڑی تعداد میں شکایات سامنے آئیں۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا ارادت شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کے حکام نے سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات، دستیاب وسائل اور شکایات پر ہونے والی کارروائی کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ سال 2024 کے دوران مالیاتی فراڈ کی 83 ہزار شکایات موصول ہوئیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 76 ہزار سے زائد رہی۔

(جاری ہے)

رواں سال 2026 میں اب تک 68 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف سرکاری اداروں، بینکوں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام استعمال کرکے شہریوں سے فراڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض افراد مختلف سفارت خانوں کے نام اور جعلی فون نمبرز استعمال کرکے بھی لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ایسے بعض سفارت خانوں سے متعلق شکایات بھی ادارے کو موصول ہوچکی ہیں۔سیکرٹری پارلیمانی امور نے بتایا کہ کمیٹی کو 140 شکایات قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کو بھجوائی گئیں، جن میں 80 سائبر فراڈ کے کیسز شامل تھے۔حکام نے بتایا کہ ادارے کے پاس ملک بھر میں صرف 14 رپورٹنگ مراکز اور 503 ملازمین ہیں۔ اسلام آباد میں 12 تفتیشی افسران جبکہ پورے ملک میں مجموعی طور پر 111 تفتیشی افسران خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ادارے میں مزید 832 ملازمین کی بھرتی کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ فیصل آباد میں ایک شخص سے 81 اے ٹی ایم کارڈز برآمد کیے گئے، جبکہ ایک ہی شخص کے نام پر 193 بینک اکاؤنٹس کھولے گئے تھے، جنہیں مبینہ طور پر مالیاتی فراڈ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔اجلاس میں اراکین کمیٹی نے بھی سائبر فراڈ کے واقعات سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے۔

رکن کمیٹی شازیہ فرید نے بتایا کہ ان کے ساتھ بھی فراڈ کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے کہا کہ متعدد ارکان اسمبلی کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پارسل کے نام پر ارکان اسمبلی کو بھی روزانہ مشکوک فون کالز موصول ہوتی ہیں۔ اس پر قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پارسل کے نام پر ایسی کالز ادارے کے افسران کو بھی موصول ہوتی ہیں۔

اجلاس کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نمائندے نے کمیٹی کو اوکاڑہ، پتوکی سڑک سے متعلق بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ اوکاڑہ اور پتوکی کے درمیان پلازوں کا فاصلہ مقررہ پالیسی کے مطابق ہے، تاہم اوکاڑہ سے پتوکی روڈ کا تقریباً نو کلومیٹر حصہ خراب حالت میں ہے۔حکام کے مطابق مذکورہ سڑک کی تعمیر و بحالی کے لیے عمل شروع کردیا گیا ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بریفنگ کے دوران چیئرمین کمیٹی رانا ارادت شریف نے شکایت کی کہ بعض ایجنٹس مستحق افراد کی رقوم سے کٹوتی کرتے ہیں، تاہم رقم کم ملنے کے باوجود کئی لوگ شکایت درج نہیں کراتے۔

بی آئی ایس پی حکام نے بتایا کہ پروگرام کے تحت چھ بینکوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ایک علاقے میں مخصوص بینک کے ساتھ معاہدے سے اجارہ داری پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کیا۔حکام نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت مستحق افراد کسی بھی بینک سے اپنی رقم وصول کرسکیں گے۔چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو رقوم یا دیگر معاملات کے لیے بار بار سرکاری دفاتر آنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے گھر گھر سروے کا نظام موجود تھا، اس لیے ایسا جدید نظام وضع کیا جائے جس سے خواتین کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے دعویٰ کیا کہ بعض سرکاری ملازمین نے بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقوم حاصل کیں، جن سے اب رقم سود سمیت واپس وصول کی جا رہی ہے۔اجلاس میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے حکام نے بھی کمیٹی کو وظائف اور مالی وسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے فنڈز میں کمی ہوئی ہے، جس کے باعث وظائف کے لیے دستیاب وسائل محدود ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق اب ان طلبہ کو وظائف دینے پر توجہ دی جائے گی جنہیں اچھی جامعات میں داخلہ ملے گا۔ نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی ایک اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے رابطہ جاری ہے۔حکام نے بتایا کہ جہاں حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، وہاں وظائف حاصل کرنے والے طلبہ سے معاہدے بھی کیے جاتے ہیں۔

رکن کمیٹی انجینئر حمید حسین نے ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خراب حالات کے باعث وہاں کے بچے دیگر علاقوں کے طلبہ کے ساتھ تعلیمی مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے خصوصی درخواست کرنے کی تجویز دی کہ ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کے لیے خصوصی لیپ ٹاپ اسکیم شروع کی جائے تاکہ انہیں تعلیمی مواقع میں سہولت فراہم کی جاسکے۔اجلاس میں سائبر فراڈ، سڑکوں کی بحالی، سماجی تحفظ کے پروگرام اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق مختلف امور پر اراکین نے سوالات اٹھائے اور متعلقہ اداروں سے مزید اقدامات اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا۔