ایف بی آئی پر بڑا سائبر حملہ‘انٹیلی جنس اہلکاروں کا حساس ڈیٹا لیک

یہ ڈیٹا ان کے پاس موجود 2 سے 3 ٹیرا بائٹ کے مجموعی ڈیٹا کا صرف ایک معمولی حصہ ہے، جبکہ اس میں تقریبا 5 ہزار ریکارڈز شامل ہیں‘ ہیکرز کا دعویٰ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 24 ستمبر 2026 15:49

ایف بی آئی پر بڑا سائبر حملہ‘انٹیلی جنس اہلکاروں کا حساس ڈیٹا لیک
واشنگٹن(اردوپوا ئنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 ستمبر ۔2026 ) امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ملازمین کا حساس ڈیٹا مبینہ طور پر ہیکرز کے ہاتھ لگنے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بیورو کے متعدد اہلکاروں کی ذاتی معلومات کے ساتھ چین اور روس انسداد جاسوسی سے متعلق حساس ذمہ داریاں ادا کرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں. خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شائنی ہنٹرز نامی ہیکنگ گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے مبینہ ڈیٹا میں تقریبا 5 ہزار ریکارڈز شامل ہیں، جبکہ ہیکرز کا دعوی ہے کہ یہ ان کے پاس موجود 2 سے 3 ٹیرا بائٹ کے ڈیٹا کا صرف ایک معمولی حصہ ہے.

(جاری ہے)

ایف بی آئی نے سائبر حملے اور ملازمین کی ذاتی معلومات متاثر ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم بیورو کا کہنا ہے کہ ڈیٹا چوری ہونے کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی رائٹرز کی جانب سے دستیاب ڈیٹا کے جائزے کے مطابق بعض معلومات چین اور روس کی انٹیلی جنس سرگرمیوں، منشیات اسمگلنگ کرنے والے گروہوں، انسداد دہشت گردی اور خفیہ نگرانی جیسے حساس معاملات سے متعلق ہیں .

اس ڈیٹا میں مبینہ طور پر ہزاروں موجودہ اور سابق ایف بی آئی ملازمین کے نام، پتے، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، سوشل سکیورٹی نمبرز اور ہنگامی رابطہ نمبرز شامل ہیں اس کے علاوہ بعض ملازمین کو مخصوص ایف بی آئی فیلڈ دفاتر اور ایسے یونٹس سے منسلک کیا گیا ہے جو انٹیلی جنس، سکیورٹی اور انسداد جاسوسی جیسے حساس کام کرتے ہیں. ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اسے ایک سائبر جرائم پیشہ گروپ کے اس دعوے کا علم ہے کہ اس نے ایف بی آئی جوبز ڈاٹ جی او وی پورٹل کو نشانہ بنایا اور ایف بی آئی کے ملازمین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئی ہیں بیورو کے مطابق سائبر حملے کی اصل وجہ ابھی طے نہیں ہوئی اور معاملے کی فعال اور جامع تحقیقات جاری ہیں.

ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز نے دعوی کیا تھا کہ اس نے موجودہ اور سابق ایف بی آئی ملازمین سے متعلق بڑی مقدار میں ڈیٹا چوری کیا ہے گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ معلومات اس وقت تک روک رکھی ہیں جب تک ایف بی آئی اس گروپ کے بارے میں مئی میں جاری کیے گئے ایک تنقیدی بیان کو واپس نہیں لیتی.