چین کو اپنی مہارت اور ٹیکنالوجی چرا لیے جانے کا خدشہ، تدارک کے اقدامات تیز

DW ڈی ڈبلیو اتوار 27 ستمبر 2026 12:20

چین کو اپنی مہارت اور ٹیکنالوجی چرا لیے جانے کا خدشہ، تدارک کے اقدامات ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 ستمبر 2026ء) یہ بات قدرے حیران کن ہے کہ بیجنگ اب اپنی اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ حالانکہ برسوں سے امریکہ اور یورپی یونین اس پر دانشورانہ ملکیت چوری کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کچھ نئے ضابطے نافذ ہوئے ہیں، جن کے تحت چینی حکام کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ انجینئروں، کمپنی کے بانیوں اور دیگر ماہرین کو ''صنعتی اور تکنیکی سلامتی‘‘ کے لیے خطرہ سمجھ کر ملک سے باہر جانے سے روک سکتے ہیں۔

حالیہ عرصے میں بیجنگ نے بیرون ملک سرمایہ کاری کے قواعد بھی سخت کیے ہیں، بیرون ملک دولت رکھنے والے چینی شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے اور تکنیکی عملے کی بیرون ملک تعیناتیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

(جاری ہے)

سنگاپور مینجمنٹ یونیورسٹی (ایس ایم یو) میں قانون کے پروفیسر ہنری گاؤ کے خیال میں یہ تمام پابندیاں مل کر ''چین کی معیشت کی حقیقی صورتحال کی ایک نایاب جھلک پیش کرتی ہیں۔

‘‘

گاؤ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ''یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بیجنگ معاشی کمزوری اور سرمایے کے بڑے پیمانے پر بیرون ملک اخراج کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔‘‘

کمپنیوں کے بانی ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں

اب یہی تشویش لوگوں اور سرمایے کے ملک سے باہر جانے تک پھیل گئی ہے۔

اس کی حالیہ نمایاں مثال Manus نامی مصنوعی ذہانت کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ہے، جسے بیجنگ میں دو چینی شہریوں نے قائم کیا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اپنا ہیڈکوارٹر سنگاپور منتقل کر لیا، جس کی ایک وجہ امریکی پابندیوں سے بچنا اور عالمی منڈیوں میں توسیع کرنا تھی۔

جب فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے گزشتہ دسمبر میں Manus کو 2 بلین ڈالر میں خریدنے کی کوشش کی تو بیجنگ نے اس معاہدے کو روک دیا اور کمپنی کے دونوں بانیوں کو ملک چھوڑنے سے بھی منع کر دیا۔

اسی ماہ چینی سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ ہواوے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو رین ژینگ فئی اور ان کی بیٹی، چیف فنانشل آفیسر مینگ وان ژو، ممکنہ طور پر ملک چھوڑ چکے ہیں۔

دولت مند چینیوں کے لیے سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنا مشکل

بلومبرگ انٹیلیجنس کے اندازے کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی چینی دولت ملک سے باہر منتقل ہوئی، جو 2006 میں ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے ''ہاٹ منی‘‘ کا سب سے بڑا اخراج تھی۔

بیجنگ نے شہریوں کو سالانہ 50 ہزار ڈالر تک زرمبادلہ ملک سے باہر لے جانے کی حد میں اضافہ نہیں کیا ہے۔

تاہم فرانسیسی سرمایہ کاری بینک نیٹکس کی ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ ایلیشیا گارشیا ہیریرو کے مطابق اس حد سے بچنے کے لیے دولت مند افراد جن غیر رسمی راستوں کا استعمال کرتے تھے، ان پر اب پابندیاں سخت کی جا رہی ہیں۔

گارشیا ہیریرو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''انہوں نے 50 ہزار ڈالر کی حد تبدیل نہیں کی۔ اب وہ ان افراد اور ایجنٹوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں جن کے ذریعے عموماً یہ رقم منتقل ہوتی تھی۔

‘‘

نئی پابندیاں متبادل راستوں کو فروغ دے سکتی ہیں

ایس ایم یو کے گاؤ کا خیال ہے کہ نئی پابندیاں الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ جتنا مشکل سرمایے یا افراد کو بیرون ملک منتقل کرنا ہوگا، اتنا ہی وسائل رکھنے والے لوگوں کے لیے دوسرے راستے تلاش کرنے کی ترغیب بڑھے گی۔

گاؤ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''وقت گزرنے کے ساتھ اس سے اعتماد مزید کمزور، سرمایے کے اخراج میں تیزی اور ان معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جنہیں یہ اقدامات قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

‘‘

دوسری جانب گارشیا ہیریرو سمجھتی ہیں کہ سرمایے پر پابندیوں کے مقابلے میں ماہر افرادی قوت کو روکنے کے اقدامات زیادہ اہم ثابت ہوں گے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''آپ منظوری لے کر اب بھی آہستہ آہستہ رقم منتقل کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسے پروسیس انجینئر کی جگہ لینا آسان نہیں جو جہاز میں سوار ہی نہ ہو سکے، یا غیر معینہ مدت کی پابندی کے باعث بیرون ملک ملازمت اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

‘‘

اے آئی ماہرین کو اب بیرون ملک جانے کے لیے اجازت درکار

اس خطرے کے اثرات پہلے ہی چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں تک پہنچ رہے ہیں، جو جدید ترین اے آئی نظام تیار کرنے کی دوڑ میں اپنے امریکی حریفوں کا تیزی سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

بلومبرگ نے مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ چینی حکام نے علی بابا اور DeepSeek جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ اے آئی محققین، بانیوں اور انتظامی عہدیداروں کے لیے بیرون ملک سفر سے قبل اجازت لینا ضروری قرار دے دیا ہے۔

ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ دی انفارمیشن کے مطابق گزشتہ سال DeepSeek کے بعض ملازمین سے ان کے پاسپورٹ جمع کرانے کو بھی کہا گیا تھا۔ بیجنگ نے اس عمل کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

ادارت: عاطف توقیر