زرعی یونیورسٹی پشاور میں فیکلٹی ممبران کے اگلے عہدوں پر ترقی کے آفس آرڈرز تقسیم
جمعہ 2 اکتوبر 2026 22:56
(جاری ہے)
سنڈیکیٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے مختلف فیکلٹی کیڈرز کے ان خالی اسامیوں پر ترقی اور تقرریوں کی منظوری دی گئی جو 2015، 20218، 2021 اور 2023 میں مشتہر کئے گئے تھے۔
اس اقدام سے نہ صرف عرصہ دراز سے ترقی کے منتظر ملازمین کو ان کا جائز حق ملا ہے بلکہ یونیورسٹی میں میرٹ، شفافیت اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے انتظامیہ کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اجلاس میں مشتہر کئے گئے فیکلٹی کیڈر کے تحت بی ایس پروفیسرز، ٹی ٹی ایس پروفیسرز، بی ایس ایسوسی ایٹ پروفیسرز، ٹی ٹی ایس ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو اگلے گریڈز میں ترقی دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ لیکچرارز کی نئی تقرریاں بھی کی گئیں۔اس موقع پر صدر ایگریکلچرل یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈین پروفیسر ڈاکٹر ہمایون خان اور جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر سید سرتاج عالم نے فیکلٹی ممبران کو ترقی دینے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی قیادت میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران اور ملازمین کی جائز حقوق کی تحفظ، ترقی کے مواقع کی فراہمی اور یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی امور میں بہتری کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ترقی پانے والے فیکلٹی ممبران نے وائس چانسلر کی بہترین رہنمائی، قائدانہ صلاحیتوں اور ملازم دوست پالیسیوں کو سراہا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان نے تمام ترقی پانے والے فیکلٹی ممبران کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کئی سالوں سے ترقی کے منتظر یونیورسٹی فیکلٹی ممبران و دیگر ملازمین کو ان کا جائز حق دلانا ان کے مشن کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے کسی بھی ملازم کی حق تلفی نہیں کی جائے گی اور ہر ملازم کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان نے کہا کہ یونیورسٹی میں ترقیوں اور دیگر معاملات میں میرٹ، شفافیت، انصاف اور متعلقہ قواعد و ضوابط کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ملازمین اپنی ترقی کے جائز حق کے منتظر ہیں، ان کے معاملات کو قواعد کے مطابق آگے بڑھانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیکلٹی ممبران یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی نظام کا اہم حصہ ہیں ان کے جائز حقوق اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی معیار اور انتظامی امور میں بھی بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی پشاور کو ایک مضبوط، مؤثر، شفاف اور ترقی پسند ادارہ بنانے کے لئے تمام شعبہ جات اور ملازمین کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران اور دیگر ملازمین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ادارے کو مزید مستحکم اور قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ترقی پانے والے فیکلٹی ممبران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کو مزید محنت، لگن اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ ادا کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی پشاور کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔مزید تعلیم کی خبریں
-
ایچ ای سی نے ممتاز قومی پروفیسر ایوارڈ 2026 کیلئے سرکاری و نجی شعبے کی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اہل پروفیسرز سے نامزدگیاں طلب کر لیں
-
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں خزاں 2026 سمسٹر کے داخلوں کا سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
-
ایچ ای سی کے نام پرجعلسازی، شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری
-
انٹرمیڈیٹ حصہ اول سائنس پری انجینئرنگ کے سالانہ امتحانات برائے 2026ء کے نتائج کا اعلان
-
سرکاری و نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کیلئے مساوی اور میرٹ پر مبنی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، چیئرمین ایچ ای سی
-
پنجاب کے سرکاری سکولوں کی بہتری، گریڈزمنصوبے پراہم پیش رفت
-
میٹرک کے دوسرے سالانہ امتحان کیلئے رول نمبرسلپ جاری
-
سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے 4 امیدواروں کے صفر نمبر
-
پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑے اضافے کی تجویز
-
تعلیمی نظام کو اے آئی کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے‘ علی ڈار
-
پنجاب حکومت کا سکول ٹیچر انٹرنزکی دوبارہ بھرتی کا اہم فیصلہ
-
ایچ ای سی کا غیر ملکی جامعات کے ساتھ تعاون کے تحت پاکستان میں پیش کیے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں داخلے یا فیس کی ادائیگی سے قبل متعلقہ ادارے اور پروگرام کی ایچ ای سی سے منظوری کی تصدیق کرنے کا ..
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.