امریکی ہوں گے اپنے ملک میں، سفارتکار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو ماریں ،ْ

اسلام آباد ہائی کورٹ قانون اگر سفارتکار کو تحفظ فراہم کرتا ہے تو دوسرے شہریوں کو بھی یہ تحفظ حاصل ہے ،ْ جسٹس عامر فاروق

بدھ اپریل 20:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ اپریل ء)اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے سے متعلق کمیٹی کو 5 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے امریکی ملٹری اتاشی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی، اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ امریکی ہوں گے اپنے ملک میں، ہمارے ملک میں سفارتکار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے لوگوں کو مارا جائے۔انہوں نے کہا کہ قانون اگر سفارتکار کو تحفظ فراہم کرتا ہے تو دوسرے شہریوں کو بھی یہ تحفظ حاصل ہے۔

(جاری ہے)

عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ آپ نے امریکی ملٹری اتاشی کا بیان ریکارڈ کیا تھا، جس پر متعلقہ ایس ایچ او کی جانب سے عدالت کو بیان پیش کیا گیا۔

ایس ایچ او کی جانب سے پیش کردہ بیان پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ یہ بیان تو اردو میں ہے، آپ نے اردو زبان میں بیان کیوں لکھا، کل کو وہ مکر جائیں گے کہ میں تو اردو جانتا ہی نہیں جس پر پولیس افسر نے بتایا کہ بیان انگریزی میں دیا تھا، میں نے اردو میں لکھا۔پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دفتر خارجہ کے افسر سے کرنل جوزف کے امریکی سفارتکار ہونے کی تصدیق کرائی گئی اور سفارتکار کو شامل تفتیش کیا اور گرفتار تصور کیا گیا۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گرفتار تصور کرنا کیا ہوتا ہے، آپ نے نہ بیان لیا نہ خون کا ٹیسٹ کرایا، پولیس خود اس طرح کیسز کو خراب کرتی ہے، تھوڑی دیر کے لیے پاکستانی بن کر سوچیں، ہر کیس کو ادھر ادھر نہ کیا کریں۔دوران سماعت عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ کوئی پاکستانی ہوں تو آپ کس طرح تفتیش کرتے ہیں لیکن گورا ہو اور وہ بھی امریکی تو اسے دیکھ کر تو ویسے ہی آپ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہوں گے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے بتایا گیا کہ ای سی ایل میں نام ڈالے جانے کے حوالے سے کمیٹی بنی ہوئی ہے اور کمیٹی کو یہ کیس بھی بھیج کر رپورٹ عدالت میں جمع کرادیں گے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کمیٹی، کمیٹی نہ کھیلیں وہ تو تاحیات نہیں بیٹھے گی۔عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ کمیٹی کا مطلب، نہ کرنے والی بات ہے اور گورا رنگ دیکھ کر ویسے ہی ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے امریکی ملٹری اتاشی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق کمیٹی کو 5 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت منگل 24 اپریل تک کے لیے ملتوی کردی۔

Your Thoughts and Comments