شام ، دوما میں کیمیائی حملے کی بڑی وجہ سامنے آ گئی

کیمیائی حملے کا مقصد اپوزیشن کو بڑے صدمے سے دوچار کر کے سمجھوتے پر مجبور کرنا، اپنے علوی قبیلے کو خوش کرنا اور ہمدردیاں حاصل کرنا تھا،امریکی میڈیا رپورٹ

بدھ اپریل 18:32

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ اپریل ء)شام کے علاقے دوما میں کیمیائی حملے کی بڑی وجہ سامنے آ گئی، کیمیائی حملے کا مقصد اپوزیشن کو بڑے صدمے سے دوچار کر کے سمجھوتے پر مجبور کرنا تھا، بشار الاسد نے اپنے علوی قبیلے کو خوش کرنے اور ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جیش الاسلام کے زیرکنٹرول علاقوں پر کیمیائی حملہ کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چند ہفتے قبل شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب دوما شہر میں مبینہ طور پر کیے گئے کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔دوما میں کیمیائی حملے کے بعد اس کی مختلف وجوہات اور توجیہات سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ یہ استفسار کرتے ہیں کہ آیا بشار الاسد کی فوج دوما میں عالمی سطح پر ممنوعہ اسلحہ استعمال کرنے پر مجبور ہوئی تھی اور اس نے کس مجبوری کے تحت ایسا کیا ہے۔

(جاری ہے)

حالانکہ دوما میں اسدی فوج کا کنٹرول زیادہ مشکل نہیں تھا اور اسے وہاں پر کارروائی آگے بڑھانے کے لیے حلیفوں کی بھی بھرپور مدد حاصل تھی۔ روس کے ذریعے دوما میں موجود اپوزیشن گروپ جیش الاسلام مذاکرات بھی کر رہا تھا۔دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جو بڑی توجیہ سامنے آئی وہ حیران کن ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے کیمیائی حملے کا اس لیے حکم دیا تاکہ اپوزیشن کو کسی بڑے صدمے سے دوچار کر کے اسے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

یہ صدمہ کیمیائی حملے کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ بارہ اپریل کو امریکی جریدے ’ایٹلانٹک‘ میں بھی دوما میں کیمیائی حملے کی قریبا یہی توجیہ بیان کی گئی تھی۔’خاندان جنہوں نے اسد پر سب کچھ قربان کردیا‘ کے عنوان سے شائع کی گئی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد کی فوج کی طرف سے دوما میں کیمیائی حملے کا سبب واضح نہیں ہو سکا حالانکہ اسدی فوج دوما میں اپنی کامیابی اور فتح کا اعلان بھی کر چکی تھی۔

زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسدی فوج نے محض اس لیے کیمیائی حملہ کیا تاکہ دوما کے شہریوں اور اپوزیشن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق دوما میں سرگرم جیش الاسلام نے چند سال قبل بشار الاسد کے وفادار علوی قبیلے کے کچھ لوگوں کو گرفتار کر رکھا تھا۔کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے جیش الاسلام کو گرفتار علوی عناصر کو رہا کرنے پر دباؤ میں لانے کے لیے دوما میں کیمیائی حملہ کیا۔

حالانکہ بشارالاسد کو یہ اندازہ بھی تھا کہ مغرب اس حملے کو گوارا نہیں کرے گا کیونکہ مغربی ممالک بشار الاسد کو متعدد بار خبردار کر چکے تھے کہ اگر اس نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اسے اس کی سزا دی جائے گی۔مگر بشار الاسد نے اپنے علوی قبیلے کو خوش کرنے اور ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جیش الاسلام کے زیرکنٹرول علاقوں پر کیمیائی حملہ کیا تاکہ علوی قبیلے کے گرفتار عناصر کو رہائی دلائی جا سکے۔ماہرین کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے لیے علوی قبیلے کے گرفتار افراد کی رہائی انتہائی اہمیت کی حامل تھی مگر رہائی کا کوئی بھی آپریشن خطرناک نتائج کو موجب بھی بن سکتا تھا۔ بشارالاسد نے اپنے قبیلے میں اپنی آئینی حیثیت بچانے کے لیے دوما میں کیمیائی حملہ کیا۔

Your Thoughts and Comments