Purana Harba - Article No. 772
پرانا حربہ - تحریر نمبر 772
لمبی اور بھاری چونج والا پرندہ اُڑتا ہوا باغ میں پہنچا تو اس کی نظر ایک لمبی تڑنگی بَلا پر پڑی جو باغ کے بالکل بیچ میں اپنے گول مٹول سر اور لمبی ٹانگ کے سہارے اپنے بازو پھیلائے کھڑی تھی
بدھ 21 جنوری 2015
لمبی اور بھاری چونج والا پرندہ اُڑتا ہوا باغ میں پہنچا تو اس کی نظر ایک لمبی تڑنگی بَلا پر پڑی جو باغ کے بالکل بیچ میں اپنے گول مٹول سر اور لمبی ٹانگ کے سہارے اپنے بازو پھیلائے کھڑی تھی۔ پرندے کے منھ سے چیخ نکلی اور وہ قلابازی کھا کر واپس پلٹا اور باغ سے دور چیڑ کے ایک اونچے پیٹر پاجا بیٹھا اور خوف زدہ نظروں سے اس بَلا کو دیکھنے لگا۔ باغ کے ایک کونے سے بوڑھے مالی نے پرندے کو خوف زدہ ہوک ر بھاگتے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”اب دیکھتا ہوں تم کیسے میرا باغ اُجاڑتے ہو“۔ اس نے زیرلب کہا۔
بوڑھا مالی ان پرندوں کے ہاتھوں سخت پریشان تھا۔ پرندے روزانہ باغ پر حملہ کرتے اور نہ صرف بہت سارے انجیر کھا جاتے، بلکہ بہت سے انجیر زمین پر بھی گرا دیتے۔
(جاری ہے)
وہ ایک جگہ چھپ کر پرندوں کا انتظار کرنے لگا۔ پھر اس نے ایک پرندے کو ادھر آتے دیکھا۔ پرندہ اس خوف ناک بلا کو دیکھ کر واپس بھاگ نکلا تھا۔ بوڑھے مالی نے اطمینان کا سانس لیا اور انجیر اور انگور کے ٹوکرے چھکڑے پرلاد کے قصبے کی طرف روانہ ہوگیا۔
بھوک سے بے تاب پرندے نے مالی کو قصبے کی جانب جاتے دیکھا تو وہ پھر باغ کی طرف نکلا۔ اس نے دیکھا وہ لمبی بلا اب بھی باغ کے وسط میں بازو پھیلائے کھڑی تھی۔ وہ باغ کے اوپر چکر کاٹنے لگا۔ پھر وہ باغ کے کنارے والے ایک پیٹر پر آبیٹھا اور چوکنا نظروں سیاس بلا کو دیکھنے لگا۔ پھر وہ نیچے آیا اور تیز ی سے ایک شاخ سے انجیر لے اُڑا اوردور ایک اونچے درخت پر بیٹھ کر نکل گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ بلا اپنی جگہ بے حس وحرکت کھڑی تھی۔ صرف اس کے کپڑے ہوا سے ہل رہے تھے وہ دوبارہ نیچے آیااور ایک اور انجیر لے اُڑا ۔ اس بلا نے اب بھی اپنی جگہ سے حرکت نہ کی تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ پھر کچھ اور پرندے بھی جو پہلے ڈر رہے تھے ، اس کے ساتھ آملے اور انجیروں پر ہلا بول دیا۔
دن ڈھلنے سے کچھ پہلے بوڑھا مالی اپنے چھکڑے پر خالی ٹوکرے لادے قصبے سے واپس لوٹا۔وہ اپنے صبح کے منصوبے پر بہت خوش تھا:”اب میں نے ان پرندوں کا علاج ڈھونڈ لیا ہے“ اس نے اپنے آپ سے کہا۔
لیکن جب وہ اپنے باغ میں پہنچا تو ایک عجیب نظارہ اس کا منتظر تھا۔ پرندے اس کے بنائے ہوئے پتلے کے بازوں پر بیٹھے انجیریں نگل رہے تھے۔ کچھ پرندے اس کے گول سر میں چونچیں مار رہے تھے جس سے دھجیوں کے ٹکڑے ہوا میں اُڑ رہے تھے۔ بوڑھے مالی نے اپنا سر پیٹ لیا۔ وہ چیختا ہوا پرندوں کی طرف جھپٹا تو چالاک پرندے فضا میں پرواز کر گئے۔
Browse More Funny Stories
مچھلی اور عقل
Machli Aur Aqal
مرزا صاحب
Mirza Sahab
لالچی مگر مچھ
Laalchi Magar Mach
ٹھگ لُٹ گیا
Thug Lut Gaya
گنجے بونے
Ganjay Bonay
سائن بورڈ
Sign Board
Urdu Jokes
ایک پولیس انسپکٹر
Aik police inspector
استاد
Ustaad
جنگ عظیم دوم
Jang e Azeem doam
ریگل چوک کہاں؟
regal chowk khan ?
پہلا دوست
Pehla dost
بڑے آئے سمجھانے والے
barray aaye samjhane walay
Urdu Paheliyan
گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں
wuzu wo karta nahi deta hai azan
دیکھا ایک ایسا دربار
dekha ek aisa darbar
مار پٹی تو شور مچایا
maar piti tu shor machaya
کالا گھر سے جاتا دیکھا
kala ghar se jate dekha
ہر اک جانے اس کا نام
har ek jaane uska naam
ہری ہری پانی میں گھولی
hari hari pani me gholi