Cashier Dakuon Se - Joke No. 1478

کیشئر ڈاکووں سے - لطیفہ نمبر 1478

جب بینک بند ہو گیا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے باہر کھڑے ہوئے چوکیدار کو قابو میں کیا اور بینک کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کمیشنر کتابوں پر جھکا حساب کتاب میں مصروف تھا ۔انہوں نے تیزی سے اسے پکڑ کر باندھا اورمنہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اس کے بعد وہ کیش اپنے اپنے تھیلوں میں ڈالنے لگے۔ جب وہ لوٹ کر جانے لگے تو ان کے کانوں میں کیشئر کی عجیب وغریب آواز یں پڑ یں ۔ وہ اپنی جگہ بری طرح ہل جل کر کچھ کہنے کی کوشش کرتا دکھائی دیا۔ ایک ڈاکو نے اس کے منہ سے کپڑا نکالا تاکہ وہ جان سکے کہ کیشئر کیا جاہتا ہے ؟کیشئر نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ”ڈاکو بھائی ! براہ مہربانی حساب کتاب کی کتابیں بھی ساتھ لیتے جاؤ۔ اس میں ایک لاکھ روپے کا فرق دے رہا ہے۔ “

مزید لطیفے

لاہور کی آمد

lahore ki aamad

ایک صاحب

Aik sahib

وکیل

Wakeel

اسمبلی کے بعد ہیڈ ماسٹر

ensemble ke baad headmaster

کتے کی عزت

Kutte Ki izzat

کیچڑ اور مٹی

keechar aur mitti

بھیک

bheek

کان

Kaan

ایک راہ گیر

aik raah geer

ایک آدمی

Aik Admi

چائے کی عادت

chaaye ki aadat

خواب

Khawab

Your Thoughts and Comments