Ruk Jao - Joke No. 1417

رک جاؤ - لطیفہ نمبر 1417

ایک انسان سڑک کے کنارے کنارے جا رہا تھا کہ ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔ کوئی چلا کر کہہ رہا تھا۔ ”رک جاؤ۔ ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو مارے جاؤ گے۔ “ وہ فوراً رک گیا دوسرے ہی لمحے ایک اینٹ اس کے آگے آگری۔ اور وہ اینٹ لگنے سے بچ گیا۔ ابھی وہ دو ہی قدم چلا ہو گا کہ پھر اسے اسی آواز نے رکنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے اچانک اپنے قدموں کو بریک لگا لی۔ اگر وہ ذراسی بھی دیر کرتا تو دوکاروں کے تصادم میں مارا جاتا ۔ وہ اپنی خوش قسمتی پر بہت خوش تھا اور اس آواز دینے والے کا شکریہ اد اکرنا چاہتا تھا جس کے لئے اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک شخص اس کے قریب کھڑا مسکر ارہا تھا۔ ”کیا تم نے مجھے رکنے کا کہا تھا؟“ ”ہاں میں نے ہی کہا تھا۔ “ ”تم کون ہو؟میرے محسن ۔“ میں نیکی کا فرشتہ ہوں۔ تم کو ہر خطرے سے آگاہ کرنا میراکام ہے!“ ”مگر تم اس وقت کہاں تھے جب میں شادی کر رہا تھا؟“

مزید لطیفے

یہ کمبل کہاں لیے جا رہے ہو؟

yeh kambal kahan liye ja rahe ho?

ملازمت

Mulazmat

گاہک درزی سے

gahak darzi se

دو احمق

Do ahmaq

انگلیاں

Ungliyan

ایک دوست دوسرے سے

aik dost dosray se

استاد شاگرد سے

Ustaad shagird se

جج

Judge

جیلسی

jealousy

باراتی گھوڑا

Barati Ghora

بیرا مینیجر سے

berra manager se

ماسٹر صاحب فیل؟

master sahib fail ?

Your Thoughts and Comments