Train

ٹرین

ایک مرتبہ انڈیا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے نیچے 250 افراد آ کر کچلے گئے۔ مرنے کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی اور پولیس کے ساتھ ساتھ جائے حادثہ پر صحافیوں نے بھی دھاوا بول دیا۔ مرنے والے سبھی سکھ تھے۔ ایک سردار جی صرف زندہ بچے تھے۔ صحافی حضرات سردار جی سے مختلف سوالات کرنے لگے۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ سردار جی! یہ حادثہ کیسے پیش آیا؟ سر دار جی بولے کہ بس جی ہماری سکھ فیملی ایک مذہبی رسم کی ادائیگی کے لئے دوسرے شہر جا رہی تھی۔ ہم نے پورا ڈبہ ٹریک کا بک کروایا تھا۔ تمام سکھ انتظار کر رہے تھے۔ پلیٹ فارم نمبر 2 پر۔ اچانک اعلان ہوا‘ پٹنہ میل اب سے 10 منٹ بعد پلیٹ فارم نمبر 2 پر آ رہی ہے تمام مسافر تیاری پکڑ لیں۔ یہ سننا تھا کہ تمام سکھ برداری کے لوگ نیچے پٹری پر اتر گئے۔ انہوں نے سوچا کہ جب ٹرین پلیٹ فارم پر آ رہی ہے تو پھر یہاں رکنا خطرناک ہے۔ ٹرین آئی مگر جناب وہ پٹری پر آئی ۔ یہ ریل انتظامیہ نے دھوکا کیا اور جھوٹ بولا۔ تمام سکھ یہ سمجھتے رہے آخری وقت تک کہ شاید اب ٹرین پلیٹ فارم پر چڑھ جائے مگر ایسا نہ ہوا اور سب ٹرین کے نیچے آ کر کچلے گئے۔ صحافی نے پوچھا کہ سردار جی! آپ کیسے زندہ بچ گئے۔ سردار جی آہ بھر کو بولے کہ ہماری تو قسمت ہی خراب ہے ہے میں آیا تھا یہاں خودکشی کرنے گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر میں ایک جگہ پٹری پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا کہ ٹرین کے نیچے آ جاوٴں۔ جب میں نے سنا کہ ٹرین پلیٹ فارم نمبر 2 پر آ رہی ہے تو جناب میں وہاں سے اٹھ کر آ کر پلیٹ فارم پر لیٹ گیا۔ یوں جناب! ٹرین آئی پٹری پر اور میں بچ گیا۔

Your Thoughts and Comments