aag aur pani ka khail

Aag Aur Pani Ka Khail

آگ اور پانی کا کھیل

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا ،جو بڑا ہی نیک اور خدا ترس تھا ۔اس کی نیکی کی شہرت دور دور تھی۔ایک دن اس کے دارالحکومت میں ایک فقیر آیا ۔اس نے بادشاہ کی نیک مزاجی اور خدا ترسی کا حال سنا تو حیرت میں پڑگیا۔

پروفیسر مشتاق اعظمی
کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا ،جو بڑا ہی نیک اور خدا ترس تھا ۔اس کی نیکی کی شہرت دور دور تھی۔ایک دن اس کے دارالحکومت میں ایک فقیر آیا ۔اس نے بادشاہ کی نیک مزاجی اور خدا ترسی کا حال سنا تو حیرت میں پڑگیا۔

اس کی سمجھ میں یہ بات آتی ہی نہیں تھی کہ حکومت کاانتظام اور خدا ترسی ایک جگہ کیوں کر جمع ہو سکتے ہیں ۔حکومت تو بڑی ہی دنیا داری کا مشغلہ ہے ۔یہی دیکھنے کے لیے وہ دور دراز کا پیدل سفر طے کرکے آیا تھا ۔جب وہ بادشاہ کے محل کے دروازے پر پہنچا تو اس نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ شاید کوئی دربان نظر آجائے ،لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
وہ اندر گیا بادشاہ نے اس اجنبی شخص کو دیکھا تو نہایت اخلاق سے پیش آیا ۔پاس بٹھا یا اور پوچھا:”کہیے شاہ جی ! کس طرح آنا ہوا؟“
”میں نے سنا تھا کہ آپ کی عمل داری میں آگ اورپانی اِکٹھے ہو گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

بس یہی دیکھنے کے لیے چلا آیا تھا ۔


بادشاہ فقیر کا مطلب سمجھ گیا اور مسکرا تا ہوا بولا :”تو دیکھ لیا ؟“
”ہاں !“فقیر نے بے زاری سے جواب دیا اور جانے کے لیے اُٹھنے لگا۔
”ٹھر ئیے شاہ جی !“بادشاہ تیزی سے بولا:”ابھی آپ نے نہیں دیکھا ہے ۔
ٹھیریے میں دکھا تا ہوں ۔“
یہ کہہ کر بادشاہ نے سارے شہر میں اعلان کرا یا کہ آج بازار خوب سجایا جائے ۔ہمارا ایک مہمان آج بازار کی سیر کرنے نکلے گا۔بادشاہ کے حکم کی دیر تھی ۔بس آناََ فاناََ بازار سج کر دلہن بن گیا۔
اب بادشاہ نے فقیر کے ہاتھ میں پانی سے بھرا ایک پیالہ پکڑا دیا اور جلاد سے کہا:”جاؤ ،انھیں پورے شہر کی سیر کر ا دو اور جہاں کہیں پیالے سے ایک قطرہ بھی پانی کا زمین پر ٹپکے انھیں فوراََ وہیں قتل کر دینا۔

جب فقیر کو پورے شہر کی سیر کرانے کے بعد بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ پسینے میں شرابور تھا ۔بادشاہ نے اسے دیکھتے ہی مسکراکر پوچھا :”کہیے شاہ جی ! آج بازار کتنا خو ب صورت سجا یا گیا تھا ۔بتائیے تو سہی آپ نے کیا کیا دیکھا اور آپ کو کیا کیا پسند آیا ؟“
فقیر نے فوراََ کہا :”ارے ظالم ! تُو نے مجھے اس لایق رکھا ہی کب تھا جو میں شہر دیکھتا ۔
میں تو بس اتنا ہی جانتا ہوں کہ سر پر ننگی تلوار تھی اور آنکھیں پیالے کے پانی پر جمی تھیں ۔“بادشاہ قہقہہ لگا کر ہنسا اور کہنے لگا :”کہیے اب بھی سمجھ میں آیا یا نہیں ؟یہ ہے آگ اور پانی کا کھیل!“
فقیر کے ہونٹوں پر تو جیسے تالا پڑگیا۔
وہ آنکھیں پھاڑ کر بادشاہ کو دیکھنے لگا۔
بادشاہ نے پھر کہا :”ہاں یہی راز ہے حکومت کے انتظام اور خدا پرستی کے یک جاہونے کا۔اگر خدا کا خوف دل میں ہوا اور اپنی ذمے داری پر نظر جمی ہوئی ہوتو پھر دنیا کی کوئی دل چسپی تمھیں دین سے غافل نہیں کر سکتی۔دین ذمے داریوں کے پورا کرنے کا نام ہے ۔ان سے بھاگنے اور غاروں اور بیابانوں میں پنا ہ لینے کا نہیں ۔“

Your Thoughts and Comments