Aaya Ramzan Aaya

Aaya Ramzan Aaya

ٓآیا رمضان آیا

سکول میں سب بچے ہی گرمیوں کی چھٹیوں کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔اخبارات میں تو پہلے ہی خبر آچکی تھی کہ مئی کے آخری ہفتے میں موسم گرما کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔مس سروش سکول کی پرنسپل سے کہہ رہی تھیں؛”میڈم ابھی ایسی تو کوئی گرمی بھی نہیں پڑی کے سکولوں میں چھٹیاں کردی جائیں۔اگر ایسا ہوا تو بچوں کا بڑا تعلیمی نقصان ہو جائے گا۔“

خلد نجیب خان:
سکول میں سب بچے ہی گرمیوں کی چھٹیوں کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔اخبارات میں تو پہلے ہی خبر آچکی تھی کہ مئی کے آخری ہفتے میں موسم گرما کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔مس سروش سکول کی پرنسپل سے کہہ رہی تھیں؛”میڈم ابھی ایسی تو کوئی گرمی بھی نہیں پڑی کے سکولوں میں چھٹیاں کردی جائیں۔
اگر ایسا ہوا تو بچوں کا بڑا تعلیمی نقصان ہو جائے گا۔“
”آپ درست کہہ رہی ہیں مس سروش مگر ہم کیا کریں ،ہمیں تو سرکاری احکامات ماننا ہی پڑتے ہیں ۔نہ مانیں تو سکول زبر دستی بند کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کردیا جاتا ہے۔
“میڈم نے جواب دیا۔”تا ہم یہ بھی درست ہے کہ تمام سکول پرائیویٹ او ر اس طرح کے مراعات یافتہ نہیں ہیں جیسا کہ ہمارا سکول ہے۔

(جاری ہے)

ہمارے ملک میں تو بہت سے سکول ایسے بھی ہیں جہاں بجلی کے پنکھے بھی میسر نہیں۔کئی سکولوں میں تو بچے گرمی کی شدت سے بیہوش بھی ہو جاتے ہیں۔

جو حکومت کی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ان حالات میں انتظامیہ کے لئے سب سے آسان کام یہی ہے کہ وہ سکول بند کردے۔اس مرتبہ تو رمضان کا مبارک مہینہ بھی شروع ہو رہا ہے۔اس میں بچوں کا سکول آنا جانا خاصا مشکل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا سکولوں میں چھٹیاں کردینا ہی درست فیصلہ ہوگا۔
میرا خیال ہے کہ کل اسمبلی میں استقبال رمضان کے حوالے سے لیکچر بھی دے دیا جائے۔“
”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میڈم،میں خود یہ لیکچر دوں گی“۔مس سروش نے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے مجھے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے،آپ یہ کام کرلیں“ ۔
اس دوران ٹیلی فون کی بیل بجی تو میڈم فون سننے میں مصروف ہو گئیں اور مس سروش سٹاف روم کی طرف بڑھ گئیں۔
اگلے روز مس سروش نے بچوں سے کہا؛پیارے بچوں! آپ کو معلوم ہے کہ اگلے چند دنوں میں ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت رمضان کے بابرکت مہینے کی صورت میں آرہی ہے۔
ہمیں اس نعمت کو سمیٹنے کا بھرپور اہتمام کرنا ہوگا۔اس مبارک مہینے میں قرآن کریم نازل ہو اجو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیگر الہامی کتابیں یعنی زبور،توراة اور انجیل بھی اِسی مقدس مہینے میں نازل ہوئیں۔
اس مہینے میں نیکیوں کی قیمت بڑھ جاتی،گناہ بخشوانا آسان ہو جاتا ہے،معصیت کی نکیل کھینچ لی جاتی ہے،جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیاطین بند کر لئے جاتے ہیں۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا؛ جس شخص نے ثواب کی اُمید کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا،اُسکے تمام گزرے گناہ معاف کردئیے گئے(بخاری)
اور جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان میں قیام کیا،اسکے تمام گزرے گناہ مٹ گئے(بخاری و مسلم)
ہر مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رمضان کا مہینہ گراں قدر تحفہ اور عظیم نعمت ہے،زندگی کے نشیب وفراز سے گزرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان تک پہنچایا ہے،اس لئے ہمیں سب سے پہلے اُس رب کا شکر ادا کرنا چاہیے اور محض زبانی شکر کافی نہیں ہے بلکہ اپنے اعمال و کردار سے بھی اس کا اظہار کرنا چاہیے۔
اور آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ناشکری زوال نعمت کے ساتھ ساتھ عذاب الہی کو للکارتا ہے۔
مثل مشہور ہے،صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو وہ بھولا نہیں۔پچھلے گیارہ مہینوں میں ہم نے جو کچھ کیا،رب کی اس شفقت کو دیکھ کر اگر ہم اسکی طرف رجوع کرلیں تو رب کا دروازہ ہمیں کھلا ملے گا۔
آئیے توبہ تائب ہوکر شریعت کو اپنا شعار بنا لیں۔
خود کو مسنون ذکرواذکار کا عادی بنائیں اور زیادہ سے زیادہ مسنون و ماثور دعاؤں کا اہتمام کریں۔کوئی نہیں جانتا کے اگلے برس رمضان ہمارے نصیب میں ہے یا نہیں۔
بخاری شریف کی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اُسکے اپنے لئے ہوتا ہے،سوائے روزہ کے۔
روزہ محض اللہ کیلئے ہوتا ہے اور اس کا بدلہ وہی دے گا اور روزہ وہ عمل ہے،جس میں یا کاری نہیں آتی۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ روزہ کا بدلہ سوائے جنت کے کوئی چیز ادا نہیں کرسکتی۔عام دنوں میں بھی لغویات سے بچنا چاہیے مگر رمضان میں تو ہر ممکن طور پر لغویات سے گریز کرنا چاہیے۔

یوں تو اس مبارک مہینے میں ہر قسم کے نیک اعمال کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔مگرچند امور ایسے ہیں،جن کا اہتمام خود رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے۔اس مبارک مہینے میں اللہ کے رسولﷺ کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کبھی اُن سے سنتے اور کبھی اُن کو سناتے ۔
جس سال آپﷺ نے وصال فرمایا،اس سال کے رمضان میں آپﷺ نے حضرت جبرئیل دو بار دور فرمایا۔
رسول اللہﷺ یوں تو ہمیشہ صدقہ وخیرات کیا کرتے تھے،خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلاتے تھے۔رمضان مبارک کے مہینے میں آپﷺ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں رُکتی تھی،ہاتھ آتے ہی فوراََ صدقہ کردیتے۔

رسول اللہﷺ کا حال یہ تھا کہ جب رمضان آجاتاتو کمر بستہ ہوجاتے خود بھی جاگتے اور اہل واعیال کو بھی جگاتے۔رمضان کے آخری عشرے میں آپﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کا قیام کیا،اس کے تمام گزرے گناہ معاف کردئیے گئے۔

آپ میں سے کئی بچے تو اس وقت یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اُن پر تو رمضان کے روزے ابھی فرض نہیں ہوئے تو پھر اتنی گرمی کے روزے کیوں رکھیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس مہینے میں جس قدر بھی عبادت اور ریاضت کی جائے اس کا پورا پورا اجر ملے گا۔
زیادہ اجر کیلئے ظاہر ہے کہ آپ کو زیادہ کوشش کرنا ہوگی۔اہم بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ عبادات اور ریاضت کیلئے ہی ہے محض کھانے پینے سونے اور آرام کرنے کیلئے نہیں ہے،جو لوگ اس مہینے کو دعوتوں اور آرام کا مہینہ سمجھ کرگزارتے ہیں،اُنہیں اس مہینے میں دعوتیں اور آرام تو مل جائے گا مگر شاید آخرت میں اس کا کوئی اجر نہ پاسکیں۔

رمضان المبارک ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اسلامی تعلیمات پر پہلے خود کاربند ہوجاؤ پھر اسے دنیا میں عام کرو۔رمضان کے مبارک موقع پر اپنے بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔رسول کریمﷺ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ بد نصیب ہے وہ شخص جو رمضان کو پائے اور جنت نہ کماسکے۔
آپ لوگ اگر ان باتوں پر عمل کریں گے تو یقیناآپ کا رمضان کا مہینہ تو اچھا گزرے گا ہی اس کے ساتھ ساتھ موسم گرما بھی سکون سے گزر جائے گا۔

Your Thoughts and Comments