Ab Bala Nehin Aye Gi

Ab Bala Nehin Aye Gi

اب بلا نہیں آئے گا

میں سبزی لے کرجیسے ہی گھرمیں داخل ہوا، ننھا فہد میری طرف دوڑتا ہوا آیا۔اس نے آتے ہی میرامنھ اپنی طرف کرتے ہوئے خوشی سے کہا: بابا․․․․ آپ پہلے میری بات سنیں۔

عارف شین روہیلہ:
میں سبزی لے کرجیسے ہی گھرمیں داخل ہوا، ننھا فہد میری طرف دوڑتا ہوا آیا۔اس نے آتے ہی میرامنھ اپنی طرف کرتے ہوئے خوشی سے کہا: بابا․․․․ آپ پہلے میری بات سنیں۔
اس کے کے ساتھ ہی محمد علی نے میرامنھ اپنی طرف کرتے ہوئے بے پناہ خوشی سی کہا“ بابا، بابا! بھئی ہمارے کمرے میں بلی پانچ بچے لائی ہے۔

ننھے فہدنے وضاحت کرتے ہوئے کہا: بابا! اتنے اتنے سے پانچ بچے ہیں ایک کالا، ایک سفید، دو بھوزے اور ایک بلی کے رنگ کے جیساہے۔
محمدعلی نے کہا: بابا! وہ بلی ثاقب کے گھرسے اپنے بچے لائی ہے، بہت پیارے اور معصوم ہیں۔ وہ چوزے جتنے بڑے ہیں۔

بابا! وہ دودھ پیتے اورمعصوم سی آواز میں میاؤں، میاؤں کرتے ہیں۔ نسخے فہد نے کہا۔

(جاری ہے)


میں اس وقت بہت تھکاہواتھا، اس کے باوجود میں نے ان کی بات غور سے سنی ۔ میرے بچے اسکول سے چھٹی کے بعد اپنی ماں کے پاس ہی گھرمیں پڑھتے ہیں۔


بھئی! یہ توتم نے بہت اچھی بات بتائی، مگرتم لوگ ان بچوں کوہاتھ نہیں لگانا، ورنہ بلی پنجہ مارکرتمھیں زخمی کردے گی۔ پھربہت تکلیف ہوگی۔ میں نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
بابا! فہدنے کالے والے بچے کوہاتھ میں اُٹھالیاتھا، مگربلی نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔

ہیں بھئی؟ میں نے ننھے فہدسے مصنوعی حیرت سے پوچھا تووہ سہم کربولا: میں نے تواسے یونہی پیارکرنے کے لیے ہاتھ لگایاتھا، علی بھائی نے بھی تواسے اُٹھایاتھا۔
دیکھوبھئی! بلی کے چھوٹ بچوں کوہاتھ نہیں لگاتے۔ خارش اورکھانسی ہوجاتی ہے اور اگربلی کوغصہ آجائے توپنجہ بھی ماردیتی ہے۔
میں نے انھیں ڈراتے ہوئے سمجھایاتووہ اپنی ماں کے پاس جاکر پھرسے پڑھنے بیٹھ گئے۔
اسی شام کوجب میں تھکاہاراگھرپہنچا تووہاں اپنے بچوں کے بہت سے ہم عمر دوسروں کودیکھا۔ ننھا فہد اور محمدعلی خوشی خوشی اپنے دوستوں کوبلی کے بچے دکھانے کے لیے لائے تھے۔
اتنے سارے بچوں کودیکھ کر بلی پریشان ہوگئی تھی۔ مگر وہ خاموشی سے اپنے بچوں کودودھ پلاتی رہی، جب کہ تمام بچے حیرت سے بلی اور اس کے بچوں کوتکتے رہے۔
جب کافی رات ہوگئی تومیں نے سب بچوں کوان کے گھربھیج دیااور اپنے بچوں کواندرلے آیااور پھر ہم سب سوگئے۔
رات کوتقریباََ دوبجے بلیوں کے چیخنے کی آواز پرمیں اُٹھ بیٹھا۔ اس وقت میراتھکن سے برا حال تھا، مگراس شور کی وجہ سے نیند ٹوٹ گئی تھی۔ بلیوں کی آوازیں سن کردونوں بچے اوربیگم بھی جاگ گئی تھیں۔ جب کسی طور بھی آوازیں کم نہ ہوئیں تومیں فہدکاپلاسٹک ولابیٹ لے کرباہرآگیا۔
روشنی ہوتے ہی میں نے دیکھاکہ بلی ایک بلے کے سامنے کھڑی ہے اور اسے بچو ں کے قریب آنے سے روک رہی ہے۔ بلے کودیکھتے ہی میں نے غصے سے بیٹ بلّے پرپھینک مارا، جواس کی کمرپرلگا اور وہ فوراََ ہی دیوار پھلانگ کرغائب ہوگیا۔ بلّے کے جاتے ہی بلی خاموش ہوکراپنے بچوں سے جالپٹی اور میں بھی اپنے کمرے میں آگیا۔

ننھے فہد نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا: بابا! بلی کیوں چیخ رہی تھی؟ میں نے اسے بتایا: بلا اس کے بچوں کوکھانے کے لیے آگیاتھا، اس لیے۔
کیوں بابا؟ اس نے رٹارٹایاسوال کیا۔ اس وقت میں آرام کے موذمیں تھا، اس لیے میں نے چڑتے ہوئے کہا: سوجاؤمنے! میں بہت تھک گیاہوں۔
میری خفگی دیکھ کروہ سہم گیااور میرے گلے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہوگیا۔ تھوڑی دیربعد مجھے بھی نیند آگئی۔ رات کوتقریباََ ساڑھے تین بجے پھر بلیوں کے چیخنے پرمیں غصے سے اٹھ بیٹھا۔ اس کم بخت بلی اور اس کے بچوں کی وجہ سے میرا آرام وسکون برباد ہوگیا تھا۔
اس وقت بھی بلیوں کی آوازیں اتنی تیزتھیں کہ بیگم اور بچے بھی جاگ گئے۔ ابھی میں نے اٹھ کرباہرجانا ہی چاہاتھا کہ بیگم بولیں: ٹھیریں ، میں دیکھتی ہوں۔ یہ کہتے ہوے وہ اٹھ کرباہرگئیں۔ ابھی انھوں نے باہرکابلب روشن ہی کیاتھا کہ بلادیوارپھلانگ کرواپس بھاگ گیا۔
اس کے جاتے ہی بلی خاموش ہوگئی اور بیگم بھی کمرے میں آگئیں۔
صبح ہوتے ہی اس بلی اور اس کے بچوں کوسامنے والے کارخانے میں بھجوادینا، کم بختوں نے میراسونا عذاب کردیاہے۔
میں نے یہ بات غصے سے کہی تھی، جوفہد کوبری لگی، اسی لیے وہ اٹھ کراپنی ماں کے بستر پرچلاگیا اور جاتے ہی ان سے بولا: کیوں امی؟ منے کے سوال کواس کی ماں سمجھ گئی تھیں۔
انھوں نے شفقت سے ننھے کے سر پرہاتھ پھیرا اور اسے سونے کی تلقین کرنے لگیں۔ ہم پھرسوگئے ، مگرذراہی دیرمیں بیگم کی آنکھ کھل گئی۔ ابھی انھوں نے کروٹ ہی لی تھی کہ بدحواسی سے فہد کوادھراُدھر تلاش کرنے لگیں۔ انھوں نے اٹھتے ہی پہلے لائٹ روشن کی، فہد کومیرے پاس، پھرمحمدعلی کے پاس پلنگ کے نیچے بھی دیکھا، مگروہ انھیں کہیں نظر نہ آیا، پھروہ پریشانی کی حالت میں مجھے اٹھاتے ہوئے بولیں: فہد کہاں ہے؟
فہد؟ مجھے کیامعلوم، وہ آپ کے ساتھ ہی توسورہاتھا۔
میں نے چونک کرآنکھیں ملیں اور بدحواس ہوگیا۔ رات کے اس پہر فہد کے غائب ہونے پرہم گھبراگئے۔ کمرے سے نکلتے ہی میں نے برآمدے کی لائٹ روشن کی اور فہد کوآوازیں دیناشروع کردیں، مگرحیرت یہ تھی کہ وہ یہاں بھی نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں پر انجاناخوف سوار تھا، بیگم جلدی جلدی باتھ روم کی طرف گئیں، مگراسے وہاں بھی نہ پاکرپریشان ہوگئیں۔

کہاں چلاگیا؟ وہ خود سے بڑبڑائیں، پھرفوراََ ہی گیلری کی طرف دوڑیں تو یہ دیکھ کرحیرت زدہ رہ گئیں کہ فہد اپنا پلاسٹک کابیٹ لیے دیواردے ٹیک لگاکر بلی اور اس کے بچوں کے قریب سورہاہے۔ بیگم نے مجھے بلایاتومیں بھی حیرت کامجسمہ بنااسے تکتارہا، پھربیگم نے جیسے ہی اسے اٹھایا تووہ چونک کربیدارہوگیا۔
رات کے اس پہروہ ہمیں اپنے سامنے دیکھتے ہی بولا: آپ جائیں، سوجائیں، بلااب نہیں آئے گا۔ میں ہوں نا! میں اس بلّے سے اسے ماروں گا۔ اپنے معصوم بچے کی اتنی ہمت اور جانورسے ہمدردی کاجذبہ دیکھ کرمیری آنکھیں کھل گئیں۔ میں نے اسے پیارکرتے ہوئے کہا: فکرنہ کروفہد! صبح ہوتے ہی ہم اس بلی اور اس کے بچوں کے لیے ایک لکڑی کاگھرتیارکریں گے، جس میں وہ محفوظ طریقے سے رہ سکیں گے۔
اس طرح پھر بِلا انھیں تنگ نہیں کرے گا۔ کیوں ٹھک ہے نا اور وہاں، ہم اس کے لیے دودھ ملائی کابھی انتظام کریں گے۔ میں نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ خوشی سے کھل اٹھا: ٹھیک ہے بابا! یہ کہتے ہی وہ فرط جذبات سے میرے سینے سے آلگا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اس ننھے بچے میں ہمدردی کاواہ جذبہ موجود تھا جومیرے دل ودماغ سے نکل گیاتھا۔

Your Thoughts and Comments