Hamdardi

Hamdardi

ہمدردی

ثناء اُداسی سے اپنے کمرے میں بیٹھی تھی وہ آج کے واقعہ سے بہت پریشان تھی ہمدردی اور رحمدلی کا جذبہ اس میں کوٹ کوٹ کربھراہوتھا۔

سمیراانور:
ثناء اُداسی سے اپنے کمرے میں بیٹھی تھی وہ آج کے واقعہ سے بہت پریشان تھی ہمدردی اور رحمدلی کا جذبہ اس میں کوٹ کوٹ کربھراہوتھا۔ وہ کسی کو تکلیف اور اذیت میں نہیں دیکھ سکتی تھی اتنے میں اس کی امی کمرے میں داخل ہوئی وہ بولیں۔
بیٹھا․․․ تم نے سکول سے آکر کھانا بھی نہیں کھایا اور ہوم ورک بھی نہیں کیا۔ تمہارطبیعت ٹھیک ہے۔ جی امی لیکن آج جو میں نے دیکھا اس سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے کہ ہمارے اردگرد کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ زبان سے کچھ نہیں کہتے۔
یہ کہہ کرثنا بے اختیار روپڑی۔ اس کی امی پریشان ہوکر کہنے لگی۔
بیٹا․․․ کیا بات ہے مجھے بتاؤ۔ امی ہمارے دوسرے سیکشن کی ایک لڑکی جس کانام فضیلہ ہے اس کو آج ٹیچر نے کلاس سے نکال دیا کیونکہ اس کے پاس مطلوبہ کتاب نہیں تھی وہ روزانہ یہی کہتی تھی کہ میری کتاب گھر رہ گئی ہے۔

(جاری ہے)

ٹیچر کل لے کر آؤں گی لیکن در حقیقت اس کے پاس کتابیں نہیں ہیں ایک دو ہیں جو پرانی حالت کی ہیں وہ روزانہ لڑکیوں سے کتاب مانگ کر سارا کام رجسٹر پراتارتی اور گھرجا کت یاد کر لیتی لیکن آج جب کتابیں چیک کی گئیں تو اس کے پاس ایک بھی نہیں تھی جس پر اس کوکلاس سے نکال دیا۔
اس کے ساتھ بیٹھنے ولی لڑکی نے بتایاکہ وہ بہت غریب ہے شام کوبچوں کوٹیوشن پڑھاتی ہے تاکہ گھر کا گزارہ ہوسکے اس کے والد کابھی انتقال ہوگیا ہے۔ مجھے یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا کہ ہم اپنی زندگی میں کتنے مگن ہوتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کے حالات کاپتہ تک نہیں ہوتا۔

اس کی امی نے کہا۔ بیٹا! ہم سے جتنا ہوسکا ہم اس کی مدد کریں گے۔ اس کوکتابیں بھی لے کردیں گے آپ پریشان نہ ہوبلکہ تمام دوستیں مل کر اپنی پرنسپل صاحبہ کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ وہ مستقل اس کے وظیفے کاانتظام کریں۔ ثنانے پر سوچ نگاہوں سے اپنی امی جان کودیکھا اور مسکرادی۔

اگلے دن اس نے تمام دوستوں کا اٹھاکیا اور انہیں ترغیب دی کہ وہ مل کر ایسی بہت سے لڑکیوں کی مدد کریں گی جوپڑھنا چاہتی ہے لیکن حالات ان کا ساتھ نہیں دیتے سب اس کی بات سے متفق ہوگئیں اور اپنے اپنے حصے کی چیزیں بانٹ لیں جو وہ اپنی جیب خرچ سے لے کر دیا کریں گی۔
اس کے بعد وہ پرنسپل صاحبہ کے پاس گئیں۔ پرنسپل یہ سب سن کر بہت خوش ہوئیں انہوں نے باقاعدہ ایک فلاحی تنظیم بنادی اور ثنا کو اس کاصدر منتخب کردیا۔ اس نے بہت خوشی سے ذمہ داری اور پوری ایمانداری سے ہر ہفتے تمام ممبران کی موجودگی میں ایک مستحق لڑکی کووظیفہ دیاکرتی۔
ایسا کرکے وہ نہ صرف اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن ہوئی بلکہ اسے ذہنی سکون بھی مل گیا۔
بچو آپ بھی اپنے اردگرد ایسے لوگ دیکھیں جو پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتے ہیں لیکن غربت ان کے آڑے آ جاتی ہو۔ ہوسکتا ہے آپ کی وجہ سے کسی کی زندگی بدل جائے کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ آپ بھی ایک بار کوشش ضرور کریں۔

Your Thoughts and Comments