Munni Ke Jute

مْنّی کے جوتے۔۔تحریر:مختار احمد

بچوں کو جب یہ پتہ چلا کہ جوتوں کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہیں تو مْنّی بولی "امی- آپ ارسلان کو جوتے لے دیں- میرے جوتے تو ابھی تک اچھی حالت میں ہیں، میں ارسلان کی طرح کرکٹ تھوڑی کھیلتی ہوں اور نہ ہی اسکول آتے جاتے پتھروں کو ٹھوکریں مارتی ہوں

بدھ مارچ

munni ke jute
ابرار گھی بنانے کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا- اس کی رہائش گاہ اس کمپنی سے چار پانچ کل میٹر دور تھی اس لیے وہ سائیکل پر کمپنی آتا جاتا تھا- وہ ایک محنتی اور ایماندار شخص تھا اور دل لگا کر اپنا کام کرتا تھا -اس کے دو بچے تھے- ارسلان اور بتول- بتول کو سب پیار سے مْنّی کہتے تھے- ارسلان کا پیار کا کوئی نام نہیں تھا، اس لیے وہ ارسلان ہی کہلاتا تھا- دونوں کی عمریں پورے دس دس سال تھیں کیوں کہ وہ جڑواں پیدا ہوئے تھے- دونوں بچے اسکول میں پڑھنے جاتے تھے- ابرار کی بیوی انیسہ دن بھر گھر کے کاموں میں مصروف رہتی- ابرار کام سے آنے کے بعد گھر کے کاموں میں بھی بیوی کا ہاتھ بٹاتا تھا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا تھا- اس دفعہ گھی کے ڈبوں کی کھپت زیادہ ہوئی تھی اور بہت فائدہ ہوا تھا- کمپنی کے نوجوان مالک نے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کیا- اس خبر سے ملازمین میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی- یہ خوشی اس لیے بھی زیادہ تھی کہ رمضان شروع ہو گئے تھے اور عید قریب تھی- عید پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں- اس بونس کے ملنے کی وجہ سے سب کو اطمینان تھا کہ بچوں کے کپڑوں اور جوتوں کا آسانی سے انتظام ہو جائے گا- انیسہ کو بھی اس خبر سے دلی خوشی ہوئی تھی- وہ ایک سگھڑ عورت تھی اور اخراجات میں سے تھوڑے بہت پیسے بچا کر جمع کر لیتی تھی- اس نے عید کے لیے بھی پیسے جمع کر لیے تھے مگر پھر خاندان میں ایک شادی آگئی اور سارا حساب کتاب گڑ بڑ ہو گیا- سارے پیسے شادی میں لگ گئے تھے اور اب اس کو یہ فکر لگ گئی کہ عید پر بچوں کے کپڑوں کا کیا ہوگا- ارسلان اور مْنّی کے جوتے انہوں نے پچھلی سے پچھلی عید پر خریدے تھے اور اب وہ پرانے ہوگئے تھے- جوتوں کے پرانے ہونے کی ایک یہ وجہ بھی تھی کہ دونوں بچے وہ جوتے پہن کر روز اسکول جاتے تھے- انیسہ چاہتی تھی کہ کپڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے جوتے بھی لے لے- یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ رمضانوں میں افطاری کی تیاری میں کافی خرچہ ہوجاتا ہے- پکوڑے، سموسے، پھلوں کی چاٹ، چھولے ، دہی بڑے اور مختلف اقسام کے شربت تو ہر افطاری میں دسترخوان کی زینت ہوتے ہیں- بیس روزے گزرے تو ابرار کی تنخواہ کے سارے پیسے ختم ہوگئے- رمضان کے دس روزے ابھی باقی تھے- ابرار نے بونس کی رقم سے کچھ پیسے نکال کر انیسہ کو دے دئیے تاکہ وہ بقیہ رمضان کا خرچہ چلائے- عید سے دو روز قبل دونوں میاں بیوی نے بازار جانے کی صلاح کی- ان کا ارادہ تھا کہ دونوں بچوں کے ریڈی میڈ کپڑے خرید لیں گے- ارسلان اور مْنّی بہت خوش تھے- شام کو ابرار کام پر سے گھر آیا تو سب پہلے ہی سے تیار ہو کر بیٹھے تھے- پانچ بج گئے تھے، کھانے کا ٹائم ابھی نہیں ہوا تھا اس لیے انیسہ نے اس کو چائے کے ساتھ رنگ برنگی پاپڑیاں تل کر دے دیں تاکہ اسے کچھ سہارا ہوجائے- بازار ان کے گھر کے قریب ہی تھا- وہ پیدل ہی وہاں پہنچ گئے- عید کی وجہ سے بازار میں بڑی گہما گہمی تھی اور عورتوں اور بچوں کا بہت رش تھا- عام دنوں میں دکاندار گاہکوں کی خوشامد کرتے ہیں مگر عید تہوار کے موقعہ پر گاہکوں کو ان کی خوشامند کرنا پڑتی ہے- آج بھی یہ ہی ہو رہا تھا- کسی گاہک کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ چیزوں کی خریداری کے لیے بھاوٴ تاوٴ کرسکے- دکاندار منہ مانگے دام وصول کررہے تھے اور گاہکوں کو بالکل بھی منہ نہیں لگا رہے تھے- یہ صورت حال دیکھ کر انیسہ کو بہت مایوسی ہوئی- اس کو احساس ہو گیا تھا کہ عید کی وجہ سے دکاندار لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں- کافی عرصہ پہلے وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی تو خبریں پڑھنے والی عورت نے بتایا تھا کہ کرسمس کے موقع پر یورپ میں تمام اشیا کی قیمتیں بہت کم کر دی جاتی ہیں تاکہ امیر غریب سب ایک ساتھ خوشیاں منا سکیں- اس کے برعکس یہاں عید کا سنتے ہی ہر چیز کی قیمت آسمان تک جا پہنچتی ہے- کچھ کہو تو دکاندار کہتے ہیں کمانے کے یہ ہی تو دن ہوتے ہیں- بہت دھکے کھانے اور جھک جھک کرنے کے بعد اس نے مْنّی کا چمکدار فراک سوٹ اور ارسلان کی جینز کی پینٹ اور ایک شرٹ خرید لی- مْنّی کی فراک پر سنہری رنگ کی تاروں اور سلمہ ستاروں کا کام تھا، اس لیے اس کے کپڑے ارسلان کے کپڑوں سے زیادہ مہنگے تھے- کپڑوں کی خریداری سے فارغ ہوئے تو انیسہ کو اندازہ ہوا کہ اب اس کے پاس بارہ سو روپے بچے ہیں- ان بارہ سو روپوں میں سے اگر دو سو روپے ارسلان کے بنیان اور مْنّی کی چوڑیوں اور مہندی کے الگ کردئیے جائیں تو بچتے ہیں ہزار روپے- وہ پریشان ہو گئی کہ ہزار روپوں میں باٹا کے دو جوڑی جوتے کیسے آئیں گے- اس نے یہ بات ابرار کو بتائی- ابرار نے کہا "آوٴ- سامنے والے پارک میں بیٹھ کر اس کا کوئی حل سوچتے ہیں"- اس نے بچوں کو اور انیسہ کو جوس کے ڈبے دلوائے اور سب پارک میں جا کر بیٹھ گئے-بچوں کو جب یہ پتہ چلا کہ جوتوں کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہیں تو مْنّی بولی "امی- آپ ارسلان کو جوتے لے دیں- میرے جوتے تو ابھی تک اچھی حالت میں ہیں، میں ارسلان کی طرح کرکٹ تھوڑی کھیلتی ہوں اور نہ ہی اسکول آتے جاتے پتھروں کو ٹھوکریں مارتی ہوں"-ارسلان نے جوس کی نلکی کو منہ سے نکال کر کہا "اچھا مْنّی تم امی سے میری شکایت کر رہی ہو"- انیسہ مْنّی کی بات نظر انداز کرتے ہوئے ارسلان سے مخاطب ہو کر بولی "تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ارسلان"-"میں چاہتا ہوں کہ آپ مْنّی کی بکل والی پمپی لے لیں- اتنے اچھے کپڑوں پر وہ پرانے جوتے پہنے گی تو مزہ نہیں آئے گا- اس کی سہیلیاں دیکھیں گی تو کیا کہیں گی"- ارسلان نے کہا- ابرار ان کی باتیں غور سے سن رہا تھا- جب وہ خاموش ہوئے تو اس نے کہا- "مجھے خوشی ہے کہ ہمارے دونوں بچے ماشااللہ بہت سمجھدار اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں- میری اپنی رائے یہ ہے کہ ہم قرعہ اندازی کرلیتے ہیں- میں دو پرچیوں پر تم دونوں کے نام لکھتا ہوں- ایک پرچی انیسہ اٹھائے گی- پرچی میں جس کا بھی نام نکلے گا جوتے اسی کے آئیں گے"- یہ تجویز ارسلان اور مْنّی کو تو بہت پسند آی مگر انیسہ خاموش بیٹھی رہی- اس کا دل کڑھ رہا تھا کہ دونوں بچوں میں سے کسی ایک کو بغیر جوتوں کے عید منانا پڑے گی- اس نے دکھے دل سے سوچا کہ غربت کتنی بری چیز ہوتی ہے-ابرار نے دو کاغذوں پر دونوں بچوں کے نام لکھ کر ان کو لپیٹا اور دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر ان کو خوب ہلانے کے بعد ہاتھ انیسہ کی طرف کر دئیے- انیسہ نے ایک پرچی نکالی، اس کو کھول کر پڑھا تو اس میں ارسلان کا نام تھا- ارسلان کو ذرا خوشی نہیں ہوئی وہ تو چاہتا تھا کہ جوتے اس کی بہن کے آئیں- مْنّی بہت خوش تھی، پرچی میں اس کے بھائی کا نام نکلا تھا- اب اس کے جوتے آئیں گے، عید والے روز وہ ان جوتوں کو پہن کر ٹھاٹ سے اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرے گا- جوتوں کی دکان پر زیادہ رش نہیں تھا- ارسلان کے جوتے مْنّی نے پسند کیے تھے- اس نے ان کو پہنا پھر دکان میں چل پھر کر بھی دیکھا- جوتوں کا سائز بالکل ٹھیک تھا- ارسلان نے "سب ٹھیک ہے" کی رپورٹ دی تو جوتا دکھانے والے ملازم نے جوتوں کو ڈبے میں پیک کیا اور انھیں لے کر کاوٴنٹر پر آیا- کاوٴنٹر پر موجود ملازم نے کمپیوٹر سے جوتوں کی رسید بنائی - جوتے نو سو ننانوے روپے کے تھے- ابرار نے ایک ہزار کا نوٹ اس ملازم کو دیا اور جوتوں کا ڈبہ ااٹھا لیا- وہ لوگ جانے کے لیے مڑے تو کاوٴنٹر والے ملازم نے ارسلان کو آواز دے کر روکا اور ایک روپیہ اس کے حوالے کرتے ہوئے بولا- "یہ آپ کا بقایا ہے"- ارسلان نے شکریہ ادا کر کے روپیہ لے کر انیسہ کو دے دیا- گھر آکر انیسہ نے کپڑے اور جوتے الماری میں رکھ دیے- وہ کچھ چپ چپ سی تھی- مْنّی کے جوتے نہ آنے کا اسے افسوس تھا- بچے تو بچے ہوتے ہیں، ان کی خوشیاں پوری نہ ہوں تو ماں باپ کا دل بہت دکھتا ہے- وہ ان چیزوں کو الماری میں رکھ رہی تھی تو بے اختیار اس کی آنکھیں نم ہوگئیں- بے بسی کے آنسو بہت جلد آنکھوں سے چھلک جاتے ہیں- چاند رات کی خوشیوں کا کیا کہنا- کراچی سے خیبر تک ہر گھر میں گہما گہمی نظر آتی ہے- مرد حضرات تو خیر آرام سے بیٹھے رہتے ہیں، لڑکے بالے بھی فلموں اور موبائلوں میں مصروف ہوتے ہیں مگر لڑکیوں اور خواتین کی مصروفیات ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں- انیسہ کو بھی بہت کام کرنا پڑ گئے تھے- اس نے عید کے روز سوئیوں کی تیاری کے لیے بادام پستے کاٹے، بریانی کے لیے گوشت تیار کیا اور چنے بھگو کر رکھے تاکہ صبح تک نرم ہوجائیں اور گلنے میں دیر نہ لگائیں- ان کاموں سے فارغ ہو کر وہ مْنّی کے ہاتھوں میں مہندی لگانے بیٹھ گئی- رات زیادہ ہو گئی تھی، ابرار اور ارسلان سو چکے تھے- مہندی لگا کر انیسہ نے مْنّی کے ہاتھوں پر پلاسٹک کے شاپر چڑھا کر ان پر ربڑ بینڈ لگائے اور اس کو پاس لٹا کر بولی "صبح جلدی اٹھنا ہے، اب سونے کی کوشش کرو"- اگلے روز سب جلدی اٹھ گئے- انیسہ نے ابرار اور ارسلان کے نہانے کے لیے پانی گرم کیا- ارسلان نہا کر باہر نکلا تو اس پر پینٹ قمیض بہت جچ رہی تھی- انیسہ نے اس کے سر میں ہلکا سا تیل لگایا- ارسلان نے مْنّی سے کہا- "الماری سے میرے جوتوں کا ڈبہ لادو- بہن ہوگی"- انیسہ کے دل پر ایک دھکا سا لگا- اس نے سوچا ارسلان کو مْنّی سے جوتے نہیں منگوانا چاہیے تھے- مْنّی جوتوں کا ڈبہ لے آئی اور بولی "جب کوئی کام ہوتا ہے تو خوشامد کرتے ہو، بہن ہوگی، بہن ہوگی کہتے ہو"- ارسلان ہنس کر بولا "میں اکیلا تھوڑا ہی ہوں، ساری دنیا ہی مطلب کی ہے- اچھا اب تم ایک کام اور کرو- ڈبے میں سے جوتے نکالو"- اب انیسہ سے برداشت نہ ہوسکا اس نے درشت لہجے میں کہا "ارسلان تمہیں کیا ہوگیا ہے- یہ کام تم خود کیوں نہیں کرتے- میں تمہاری جگہ ہوتی تو اس بات کا ضرور احساس کرتی کہ مْنّی کے نئے جوتے نہیں آئے ہیں- میں نہ اس سے ڈبہ منگواتی نہ جوتوں کو نکالنے کا کہتی"- اتنی دیر میں مْنّی ڈبہ کھول چکی تھی، پھر اس کے منہ سے حیرت بھری آواز نکلی "امی یہ کیا؟"- انیسہ نے جلدی سے پلٹ کر دیکھا اور خود بھی حیران رہ گئی- مْنّی کے ہاتھ میں کالے رنگ کی چمکتی ہوئی پمپی تھی، وہ ہی پمپی جو مْنّی کو بہت پسند تھی مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انیسہ خرید نہ سکی تھی- ارسلان مسکرا رہا تھا- انیسہ نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا "تمہارے جوتے کہاں ہیں؟"-"امی- میں نے رسید دکھا کر اپنے جوتے دکان دار کو واپس کردیے تھے اور ان کے بدلے مْنّی کے لیے پمپی لے لی تھیں- مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں نئے جوتے پہنوں اور میری بہن پرانے جوتے پہن کر عید منائے- میری گولک میں کچھ پیسے جمع تھے میں نے وہ پیسے دے کر موچی سے اپنے پرانے جوتے بالکل نئے جیسے کروا لیے ہیں"- مْنّی ابھی تک حیرت زدہ بیٹھی تھی- انیسہ کی آنکھوں میں آنسو تھے - وہ ارسلان کو پیار کر کے بولی "یہ اچھا ہوا یا برا، میں نہیں جانتی- مگر یہ ضرور جانتی ہوں کہ تم نے ایک بھائی ہونے کا حق ادا کردیا ہے- ہماری مْنّی بہت خوش قسمت ہے کہ اسے اتنا اچھا بھائی ملا ہے "- ابرار اور ارسلان عید کی نماز پڑھ کر آئے تو مْنّی نئے کپڑے پہن کر تیار ہو چکی تھی- اس کے کپڑے تو خوبصورت لگ ہی رہے تھے مگر بکل والی پمپیوں کا تو جواب ہی نہیں تھا- وہ اس پر خوب جچ رہی تھیں- انیسہ نے جب ارسلان کی یہ بات ابرار کو بتائی تو وہ بھی بہت خوش ہوا- ہنستے ہوئے بولا "انیسہ- آخر ہمارا ارسلان ایسا کیوں نہ ہو، میری ساری عادتیں اس میں موجود ہیں- میں بھی بچپن میں ایسا ہی تھا"- اس کی بات سن کر انیسہ بہت دنوں بعد دل کی گہرائیوں سے ہنسی تھی- پھر اس نے بلند آواز میں کہا "سب لوگ جلدی سے آجاوٴ- میں نے آج بڑے مزے مزے کی چیزیں پکائی ہیں"-کھانے سے فارغ ہو کر ابرار نے جب بچوں سے یہ کہا کہ اب وہ سب میلہ دیکھنے جائیں گے تو بچوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور مْنّی ابرار سے اور ارسلان انیسہ سے لپٹ گیا-

Your Thoughts and Comments