Badshakal Shehzadi Ki Samjhdari

بدشکل شہزادے کی سمجھ داری

ایک شہزادہ بد صورت تھا اور اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔اس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے ۔

بدھ مئی

Badshakal Shehzadi Ki Samjhdari
ایک شہزادہ بد صورت تھا اور اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔اس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے ۔ایک بار بادشاہ نے بدصورت شہزادے کی طرف ذلت اور نفرت کی نظر سے دیکھا۔
شہزادہ نے اپنی ذہانت سے باپ کی نگاہ کاتاڑلیا اور باپ سے کہا”اے ابا جان ! سمجھ دار ٹھگنا لمبے بیوقوف سے اچھا ہے ۔
ضروری نہیں ہے کہ جو چیز دیکھنے میں بڑی ہے وہ قیمت میں بھی زیادہ ہو۔دیکھیے ہاتھی کتنا بڑا ہوتا ہے ،مگر حرام سمجھا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں بکری کتنی چھوٹی ہے مگر اس کا گوشت حلال ہوتا ہے ۔
ساری دنیا کے پہاڑوں کے مقابلہ میں طور بہت چھوٹا پہاڑ ہے لیکن خدا کے نزدیک اس کی عزت اور مرتبہ بہت زیادہ ہے ۔
کیا آپ نے سنا ہے کہ ایک دبلے پتلے عقلمند نے ایک بار ایک موٹے بیوقوف سے کہا تھا کہ اگر عربی گھوڑا کمزور ہو جائے تب بھی وہ گدھوں سے بھرے ہوئے پورے اصطبل سے اچھا اور طاقتور ہوتا ہے ! بادشاہ شہزادے کی بات سن کر مسکرایا ،تمام امیر اور وزیر خوش ہوئے اور اس کی بات سب کو پسند آئی۔

(جاری ہے)


لیکن شہزادے کے دوسرے بھائی اس سے جل گئے اور رنجیدہ ہوئے ۔جب تک انسان اپنی زبان سے بات نہیں کرتا ہے اس وقت تک اس کی اچھائیاں اور بُرائیاں ڈھکی چھپی رہتی ہیں ۔اسی زمانے میں بادشاہ کو ایک زبردست دشمن کا سامنا کرنا پڑا۔
جب دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے آئیں اور لڑائی شروع کرنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے جو شخص لڑنے کے لیے میدان میں نکلا وہی بدصورت شہزادہ تھا۔
اور اس نے پکار کر کہا :میں وہ آدمی نہیں ہوں کہ تم لڑائی کے دن میری پیٹھ دیکھ سکو۔
میں ایسا بہادر ہوں کہ تم میرا سر خاک اور خون میں لتھڑا ہوا دیکھو گے،یعنی میں دشمن سے لڑتے لڑتے جان دے دوں گا مگر ہمت نہ ہاروں گا! جو لوگ خواہ مخواہ لڑائی پرآمادہ ہوتے ہیں وہ خود اپنے خون سے کھیلتے ہیں یعنی مفت جان گنواتے ہیں اور جو لڑائی کے میدان سے بھاگ جاتے ہیں وہ پوری فوج کے خون سے کھیلتے ہیں ! یہ کہہ کر شہزادے نے دشمن کی فوج پر بہت سخت حملہ کیا اور کئی بڑے بڑے بہادروں کو قتل کر دیا۔

جب باپ کے سامنے آیا تو آداب سے بجالایا اور کہا:ابا جان ! آپ نے میرے دبلے پتلے کمزور جسم کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا اور ہر گز میرے ہنر کی قیمت کو نہ سمجھا ۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پتلی کمر والا گھوڑا ہی لڑائی کے میدان میں کام آتا ہے آرام اور آسائش میں پلا ہوا موٹا تازہ بیل کام نہیں آسکتا !کہتے ہیں دشمن کی فوج بہت زیادہ تھی اور شہزادے کی طرف سپاہیوں کی تعداد کم تھی کچھ نے بھاگنے کا ارادہ کیا ،شہزادے نے ان کو للکار ا اور کہا،اے بہادرو!کوشش کرو اور دشمن کا مقابلہ کرو،یا پھر عورتوں کا لباس پہن لو۔

اس کی بات سن کر سپاہیوں کی ہمت بڑھ گئی اور سب دشمن کی فوج پر ٹوٹ پڑے اور اس کو مار بھگایا اور دشمن پر اسی دن فتح حاصل کی ۔بادشاہ نے شہزادے کو پیار کیا اور اپنی گود میں بٹھایا ۔اور روز بروز اس سے محبت بڑھنے لگی اور اس کو اپنا ولی عہد بنادیا۔

دوسرے بھائیوں نے یہ حال دیکھا تو حسد کی آگ میں جلنے لگے اور ایک دن بد شکل شہزادے کے کھانے میں زہر ملا دیا۔اس کی بہن نے کھڑ کی سے دیکھ لیا اور شہزادے کو خبر دار کرنے کے لیے کھڑ کی کے دروازے زور سے بند کیے ۔شہزادہ اس کی آواز سے چونک پڑا اور اپنی ذہانت سے سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے ،کھانا چھور دیا اور کہنے لگا،یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ بے ہنر لوگ زندہ رہیں اور ہنر مند مر جائیں۔

اگر ہم دنیا سے ختم ہو جائے ،تب بھی کوئی شخص الّو کے سایہ میں آنا پسند نہ کرے گا ! باپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو اس نے شہزادے کے سب بھائیوں کو بلایا ان کو مناسب سزادی ۔اس کے بعد ہر ایک کو اپنے ملک کا ایک ایک حصہ دے دیا۔تاکہ آپس میں جھگڑا فسادنہ کریں۔ اس طرح یہ فتنہ اور فساد ختم ہوا۔

Your Thoughts and Comments