Achi Machlli

Achi Machlli

اچھی مچھلی

بیگ صاحب محلے کی ایک مقبول شخصیت تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور لوگوں سے ان کے تعلقات بھی بہت اچھے تھے

اچھی مچھلی:
بیگ صاحب محلے کی ایک مقبول شخصیت تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور لوگوں سے ان کے تعلقات بھی بہت اچھے تھے۔ اکثر لوگ اپنے مسائل حل کرانے کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے اور وہ اپنی بساط کے مطابق لوگوں کی مدد کرتے۔
ان کے لئے درخواستیں لکھتے یا ان کو سمجھاتے کہ کیسے وہ اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ ان کی نیک نامی اور شہرت اپنی جگہ، مگر خود ان کے گھر پر ایک مسئلہ بن گیا، جسے بقول ان کی بیگم ، اس کا حل کرنا شاید ان کے بس میں نہیں تھا۔ بیگ صاحب کے اکلوتے ہونہار اور ذہین بیٹے فرمان کا اسنوکر کھیلنے کا شوق ہوا اور وہ محلے کے بدنام جیکو اسنوکر کلب میں جانے لگا، جہاں آوارہ لڑکوں کی بہتات تھی اور شاید اس جیسا پڑھا لکھا اور مہذب لڑکا اور کوئی وہاں نہیں جاتا تھا۔

(جاری ہے)

فرمان میاں کا خیال تھا کہ جس طرح ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کرسکتی ہے تو اسی طرح ایک مچھلی سارے تالاب کو اچھا بنا سکتی ہے۔ اچھی مچھلی سے مراد وہ خود تھے۔ اور ہربات کی دلیل اس طرح دیتے کہ امی نے تو ان سے ہار مان لی تھی اور مقدمہ بیگ صاحب کے سامنے رکھ دیا۔
جب فرمان نے والد صاحب کے سامنے دلائل دیے تو وہ بھی چکراگئے۔ ”ارے بھئی ،یہ سنوکر کھلینے کا خیال کیوں پیدا ہوگیا کوئی اور کھیل چُن لیتے۔!“”اسنوکر کیوں نہیں․․․․ قائداعظم نے بھی اسنوکر کھیلا ہے، اس لیے میں اسنوکر پسند کرتا ہوں”مگر جیکو کلب کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔
“ ” تو آپ کوئی اچھی جگہ بتا دیجئے، میں وہاں چلا جایا کروں گا۔“”وہاں کا ماحول اچھا نہیں، آپ کا ذہن خراب ہوجائے گا۔“ ممکن ہے ،میری وجہ سے وہاں کا ماحول اچھا ہوجائے اور ضروری تو نہیں کہ میں بگڑ جاؤں ، ہوسکتا ہے ، سب میری وجہ سے ٹھیک ہوجائیں۔
“ بیگ صاحب نے مزید بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور سوچنے لگے کہ کیسے اپنے بیٹے کو سمجھائیں کہ وہ ان کی بات کو سمجھ لے۔ ایک دن بیگ صاحب نے سوچا کہ انھیں خود جا کر جیکو کلب کے ماحول کا جائزہ لینا چاہیے۔ وہ کلب میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک کھلاڑی نے اپنی باری لینے کے لیے جلتی ہوئی سگرٹ فرمان کو پکڑا دی ہے ۔
وہ دھک سے رہ گئے اور فوراََ ایک ستون کے پیچھے ہولیے۔ کھلاڑی نے جما کر شاٹ کھیلا اور فرمان سے سگرٹ واپس لیتے ہوئے اسے پیش کش کی کہ وہ دو چار کش لگا لے۔ فرمان نے انکار کیا تو سب لڑکے اسے سگرٹ پینے پر مجبور کرنے لگے۔ فرمان نے سختی سے انکار کیا اور آہستہ سے بولا:” دوستو! سگرٹ پینا کوئی بڑا ئی نہیں ہے۔
ہاں اس سے صحت خراب اور عمر ضرور کم ہوجاتی ہے اور دنیا میں لوگوں کی اکثریت سگرٹ نہیں پیتی۔ بڑا بننے کے لئے بڑے کام کرنا پڑتے ہیں، سگرٹ پی کر تو انسان چھوٹا ہوجاتا ہے، اپنا اور اپنے گھر والوں کا مجرم بن جاتا ہے۔“بیگ صاحب کو اس لمحے اپنے بیٹے پر بہت فخر محسوس ہوا اور وہ خاموشی سے باہر آگئے۔
انھوں نے سوچا کہ بچپن میں وہ اسے کہانیاں سنا کر سیدھی راہ پر لاتے تھے، اب بھی ایسا کرنا چاہیے ، مگر کہانی کہاں سے ملے گی۔ وہ سوچ میں پڑگئے۔ اسی شام بیگ صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے۔ فرمان نے ان سے خوشی کو سبب پوچھا تو وہ مسکرا کربولے:” ایک کہانے پڑھی ہے، اس نے کیا لطف دیا ہے، اب بھی اس کے سحر سے نہیں نکل سکا۔
“”ارے تو وہ کہانی مجھے بھی سنادیں۔!“ فرمان نے دل چسپی لیتے ہوئے کہا۔ ”لوسنو! انھوں نے کہنا شروع کیا: ایک حجام کی بیٹی کی شادی ایک موچی سے ہوگئی۔ موچی اپنے گھر پر چمڑا سکھایا کرتا تھا، جس سے اس کے گھر میں ایک عجیب سے بساند پیدا ہوجاتی تھی۔
موچی کی بیوی نے موچی سے گلہ کیا کہ اس گھر سے بدبو آتی ہے، جب کہ اس کا اپنا گھر ہر وقت خوش بوؤں سے معطر رہتا تھا۔ اس کا باپ جب دکان سے واپس گھر آتا تھا تو اس کریموں اور پاؤڈر کی خوش بو آتی تھی اور یہاں چمڑے کو ناگوار بُو کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
موچی نے اسے سمجھایا کہ یہ اس کا کاروبار ہے اور اس سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔ وہ کچھ عرصے صبر سے کام لے تو خود بخود اس ماحول کی عادی ہوجائے گی، مگر بیوی نہ مانی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گھر سے بدبو ختم کرکے ہی دم لے گی۔ اب اس نے اپنے طور پر کوششیں شروع کردیں۔
وہ روزانہ صبح شام اگربتی جلانے لگی۔ شوہر کو عطر لگا کر کام پر بھیجتی او ر خود بھی سینٹ لگاتی۔ کبھی عطر کپڑے پر لگا کر کپڑے کو ہوا میں لہراتی۔ اس نے کچھ گملے بھی منگوا کر گھر میں رکھ دیے ، جن میں خوش بودار پھول لگے تھے۔ اور وہ ہروقت گھر کو دھوتی رہتی۔
پھر بھی چمڑے کی بو اپنی جگہ قائم تھی۔ کچھ دن گزرے تو وہ بھی اس ناگوار بو کی عادی ہوگئی، مگر اسے لگا کہ اس نے چمڑے کی بدبو گھر میں ختم کردی ہے اورجب اس نے اپنے شوہر سے فخریہ انداز میں کہا کہ دیکھا، میں نے آکر تمھارے گھر سے بدبو کا خاتمہ کردیا تو وہ بہت ہنسا اور اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ بدبو اپنی جگہ پر موجود ہے ، مگر وہ کود اس بدبو کی عادی ہوگئی ہے۔
لہٰذا اسے لگ رہا ہے کہ اس نے بدبو کا خاتمہ کردیا۔ بیگ صاحب نے اچانک کہانی ختم کردی اور ایک فون سننے اندر چلے گئے ۔ فرمان وہیں بیٹھا اس کہانی پر غور کرنے لگا،سوچتے سوچتے اچانک اس کے دماغ میں جیسے بجلی سی کوندی۔ وہ سرہلانے لگا۔ جیسے کوئی بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔

Your Thoughts and Comments