Do Purani Cheezain

Do Purani Cheezain

دو پرانی چیزیں

یہ دونوں چیزیں مادّی نہیں ہیں بلکہ ہُنر ہیں اور ان کا رواج آج بھی ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

مسعود احمد برکاتی:
کوئی چیز جب پرانی ہو جاتی ہے کہ تو دل سے اُتر جاتی ہے۔ یا تو ہم اُسے پھینک دیتے ہیں یا یوں ہی بے پروائی سے کہیں ڈال دیتے ہیں۔ یہ بات مادّی چیزوں کے بارے میں ہے۔لیکن غیر مادّی چیزوں مثلاََ کسی ہُنر یا فن کے لئے بھی یہ بات غلط نہیں ہے۔
بعض چیزیں کارآمد نہیں رہتیں تو لوگ اُن کو بھول جاتے ہیں۔ بعض ہُنر بھی کار آمد نہیں رہتے تو لوگ اُن کو سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں لیکن بعض ہنر یا مشغلے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے فائدے باقی رہتے ہیں پھر بھی لوگ اُن کو بھلا دیتے ہیں۔
کیوں؟ اس لئے کہ وہ فن یا ہُنر مفید تو ہیں لیکن اُن کے بغیر بھی کام چل جاتا ہے۔ ایسی ہی دو پرانی چیزوں کو آج میں یاد دلانا چاہتا ہوں۔
یہ دونوں چیزیں مادّی نہیں ہیں بلکہ ہُنر ہیں اور ان کا رواج آج بھی ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

ان دونوں ہُنروں نے بڑی ترقی کی ہے اور آلات یا مشینوں سے بھی ان کی ترقی میں مدد ملنے لگی ہے لیکن میں اُن کو پرانی یا بھولی ہوئی چیزوں میں اس لئے شمار کر رہا ہوں کہ پہلے کی طرح اب ان کا شوق نہیں رہا۔ اب ان ہُنروں کو لوگ صرف کمائی کیلئے سیکھتے ہیں پہلے ان کو ذاتی مشغلے اور ایک ذاتی خوبی کے طور پر بھی سیکھتے تھے۔

خوش نویس، خطاط یا کاتب آج بھی ہیں اور بہت اچھا لکھنے والے ہیں۔ اُن کی قدر بھی بہت ہے اور قیمت بھی، یعنی وہ کما بھی خوب رہے ہیں لیکن عام پڑھے لکھے آدمی کو اب خوش نویسی یا خطی کا شوق نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عام پڑھے لکھے آدمی کا خط لکھا نہیں رہا۔
اب زیادہ تعداد اسے لوگوں کی ملے گی جن کو بد خط کہا جاسکتاہے۔ پہلے ہر پڑھا لکھا آدمی نہیں تو اکثر تعلیم یافتہ لوگ خوش خط ہوتے تھے۔ خوش خطی کو خوبی سمجھا جاتا تھا اور یہ لازمی خوبی تھی۔جس آدمی کا خط اچھا نہیں ہوتا تھا گویا اُس میں کوئی کمی یا کسر ہے۔
اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بد خط آدمی دوسرے کے سامنے شرماتا تھا۔ خوش خطی ایک زیور کی طرح تھی کہ جس کے پاس ہے وہ دولت مند ہے اور خوش قسمت ہے۔
پہلے زمانے میں چھپائی اتنی عام نہیں تھی اور سستی بھی نہیں تھی۔ اس لئے کتابیں مشکل سے ملتی تھیں۔
بہت سے لوگ جن کو ان کی ضرورت کی کتاب میسر نہیں آتی یا وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتے تھے وہ کسی سے کتاب مانگ کر اس کی نقل خود کر لیا کرتے تھے۔ ان کو لکھنے کی مشق بھی ہوتی تھی اور خط بھی اچھا ہو تا تھا۔ اس طرح ان کی مشق اور بڑھ جاتی تھی۔

آج بھی اس مفید مشغلے کو دوبارہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر طالب علم کو اپنی فرصت کا تھوڑا سا وقت خوش خطی کی مشق کرنے کے لئے نکالنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جس کو سیکھنے میں فائدہی فائدہ ہے نقصان کوئی نہیں ہے۔
دوسرا ہُنر ”جِلد بندی“ کا ہے۔
پرانے زمانے میں ہر پڑھا لکھا آدمی تو نہیں لیکن اکثر لوگ اپنی کتابوں کی جلدیں خود ہی بنالیا کرتے تھے ٹوٹی ہوئی جِلدوں کی مرمت خود کر لیا کرتے تھے۔ وہ یہ کام کسی اسکول یا ٹریننگ سنٹر میں جا کر سیکھتے تھے بلکہ اپنے بڑوں کو دیکھ کر خود بھی ان کی نقل کرنے لگتے تھے اور کرتے کرتے اُن کو یہ ہُنر خوب آجاتا تھا۔

اصل میں کتاب کی جِلد بنانا کتاب سے محبت کا ایک حصہ ہے جس آدمی کو کتاب سے محبت ہوتی ہے وہ کتاب کو خراب خستہ حالت میں نہیں دیکھ سکتا ۔ کہیں سے ورق پھٹ گیا تو وہ اس پر فوراََ چیپی لگا کر اس کو زیادہ پھٹنے سے بچانا چاہتا ہے ۔
یہی چاہت اس کو کسی نہ کسی درجے میں ”جَلد بندی“ کاہُنر سکھا دیتی ہے اور وہ اپنی کتابوں کی جِلدیں بنابنا کر اُن کی عمریں بڑھا لیتا ہے۔ جِلد کتاب کا لباس ہے ۔ جس طرح لباس انسان کو موسم سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح جِلد کتاب کی حفاظت کرتی ہے۔
آج کل جلد اتنی منہگی بننے لگی ہے کہ اکثر جلد بنوانے کی ہمت نہیں رہتی ۔ اگر نونہال مشغلے کے طور پر ”جلد بندی“ سیکھ لیں تو ان کو ایک مفید ہُنر آجائے گا۔ وہ اپنی کتابوں کی جَلدیں بنانے کے علاوہ فرصت کے وقت میں دوسروں کی جلدیں بنا کر کچھ کما بھی سکتے ہیں۔

یہ دونوں ہُنر نہایت مفید، شریفانہ اور باعزت ہُنر ہیں ۔ اگر نونہال روزانہ نہیں تو دوسرے تیسرے دن ہی کچھ وقت ان کو سیکھنے میں صرف کیا کریں تو کچھ عرصے میں ان کی خاصی آسانی اور مہارت ہو جائے گئی اور ان کی خوبیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

Your Thoughts and Comments