Ghaza Or Bachoon Ki Sehat

Ghaza Or Bachoon Ki Sehat

”غذا اور بچوں کی صحت“

ں کو مناسب ناشتہ کروا کر اسکول بھیجیں اور زیادہ پیسے نہ دیں تا کہ بچے اوٹ پٹانگ چیزیں کھا کر پیٹ خراب نہ کریں۔ بچوں کی غذائی اشیاء دل بدل کر دیں تا کہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر آسکیں۔ سودا سلف اور کھانے پینے کی اشیا خریدتے وقت اپنے بچوں کو ساتھ رکھیں

ایم رمضان گوہر
ایک معروف ایتھلیٹ نے کہا تھا کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا بدن قوت پاتا ہے یعنی اچھی متوازن خوراک سے طاقت اور جسم پر ورش پاتا ہے جسم اور ذہین کی نشوونما کے لئے پھل اور سبزیاں اور دودھ نہایت ضروری ہے۔
مچھلی، مرغی، گوشت آئرن کی کمی کو دور کرتے ہیں۔بچوں کو مناسب ناشتہ کروا کر اسکول بھیجیں اور زیادہ پیسے نہ دیں تا کہ بچے اوٹ پٹانگ چیزیں کھا کر پیٹ خراب نہ کریں۔ بچوں کی غذائی اشیاء دل بدل کر دیں تا کہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر آسکیں۔
سودا سلف اور کھانے پینے کی اشیا خریدتے وقت اپنے بچوں کو ساتھ رکھیں۔ ان سے مشورہ بھی لیں کہ کون سی کھانے کی اشیا خریدیں۔ اس طرح بچوں کی دلچسپی مد نظر رکھیں۔ یاد رکھیں اس طرح سے بچے کھانے میں آگے بڑھیں گے اور ان کے کھانے کی عادات پختہ ہو جائیں گی۔

(جاری ہے)

بازاری مشروب سے دور رکھیں گھر کی پکائی ہوئی چیزوں کو کھانے کے لئے دیں اس طرح بچوں کو صاف ستھری اور صحت مند خوراک حاصل ہوگی جس کے کھانے سے وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تیز ہوں گے۔ یہ کوشش رہے کہ بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں تا کہ وہ سب چیزیں کھا سکیں اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی بچوں کو کھانے میں رغبت کے لئے ان کو رنگ برنگی پلیٹوں اور برتنوں میں کھانے ڈال کر دیں۔
اس طرح سے بچوں میں بھوک بڑھے گی اور وہ صحت مند جسم کے ساتھ پروان چڑھیں گے۔ کھانا کھانے کے دوران بچوں کو ٹی وی نہ دیکھنے دیں ورنہ وہ دل جمعی کے ساتھ اور سکون سے کھانا نہ کھا سکیں گے۔ دالیں، دلیہ، سرخ گوشت، مچھلی، انڈا، چکن دیں اس خوراک سے بچوں کو آئرن، وٹامنز، پروٹین اور پوٹاشیم کا معمول ممکن ہو سکے گا اور جسم و ذہن کی نشونما بھی وجود میں آئے گی۔
کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کے لئے مضر ہیں۔ بازاری آلو کی تلی ہوئی چیزیں مضر صحت ہیں۔چھ ماہ یا اس کے بعد بچہ خوراک استعمال کرنے لگتا ہے چھوٹی چھوٹی مقدار میں موسم کے مطابق بچوں کی مناسب ایسی خوراک دیں جوزود ہضم ہو۔ یاد رہے کہ بچہ تیز خوشبو والا گرم کھانا پسند نہیں کرتا۔
بچے کو ضرورت سے زیادہ نہ کھلائیں اس سے اس کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ تھوڑی تھوڑی خوراک بچے کے منہ میں ڈالیں تا کہ وہ آرام و آسانی کے ساتھ حلق میں اْتار سکے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو ابتدائی عمر میں”واکر“ سے پرہیز کیا جانا چاہیے تین ماہ سے آٹھ ماہ تک کا عرصہ بچے کے لئے نازک ہوتا ہے اس میں ڈائریا ہونے کا خطرہ ہو تا ہے جو بچے کی صحت کے لئے اچھا نہیں، غذا کارآمد ہوگی تو بچہ تندرست اور توانا ہوگا۔

Your Thoughts and Comments